غزل: عمر بھر دھوپ کی بارش میں نہایا ہوگا
📅 17-10-2024
👁 8 قارئین
💬 0 تبصرے
🔁 0 شیئر
شائع کردہ:
ہماری آواز
<p>عمر بھر دھوپ کی بارش میں نہایا ہوگاتب کہیں جا کے کوئی پھول کھلایا ہوگا</p>
<p>آج کیا خوب ہوئی رزق میں میرے برکتآج مہمان کوئی گھر میرے آیا ہوگا</p>
<p>سچ بتا جن سے تو کرتا تھا وفا کی امیدوقت پڑنے پہ کوئی کام نہ آیا ہوگا</p>
<p>ناز بچوں کے اُٹھاتے ہوئے محسوس کیاکس طرح باپ نے کردار نبھایا ہوگا</p>
<p>تیرے حصہ میں جو آئی ہے یہ غم کی دولتتو نے ارمانوں کو سولی پہ چڑھایا ہوگا</p>
<p>جس کی کمزوری بھلا اور کوئی کیا جانےاس کو تو اپنے ہی لوگوں نے ستایا ہوگا</p>
<p>یا تو اس نے یہ غزل خود سے کہی ہے روشنیا تو اشعار کہیں اور سے لایا ہوگا</p>
<p>افروز روشن کچھوچھوی</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر


