غزل: قسم خدا کی تجھے بے نقاب کرنا ہے
📅 12-10-2024
👁 13 قارئین
💬 0 تبصرے
🔁 0 شیئر
شائع کردہ:
ہماری آواز
<p>حقیقتوں کو تری پھر سے خواب کرنا ہےقسم خدا کی تجھے بے نقاب کرنا ہے</p>
<p>مری نگاہ سے ہر گز تو بچ نہیں سکتی۔اے زندگی ابھی تجھ سے حساب کرنا ہے</p>
<p>تری پناہ میں کس طرح میں ہوا بربادملا جو وقت تو اس پر خطاب کرنا ہے</p>
<p>وہ مجھ سے رشک کرے بس یہی نہیں کافیابھی تو ذہنی توازن خراب کرنا ہے</p>
<p>ہمارے جیسوں کی صحبت کو اختیار نہ کرکیا اپنی زندگی تجھ کو عزاب کرنا ہے ؟</p>
<p>بھڑک رہے ہیں جو شعلے فضا میں نفرت کےمحبتوں سے انہیں آب آب کرنا ہے</p>
<p>بھلا کے قلب سے ماضی کی تلخیاں روشناب اپنے چہرے کو پھر سے گلاب کرنا ہے</p>
<p>نتیجۂ فکر: افروز روشن کچھوچھوی</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر


