غزل: دیکھا جو اس نے پیار سے میں تو سنور گئی
📅 08-04-2022
👁 12 قارئین
💬 0 تبصرے
🔁 0 شیئر
شائع کردہ:
ہماری آواز
<p>نتیجہ فکر: گل گلشن، ممبئی</p>
<p>بھٹکی ہوئی نگاہ تھی مجھ پر ٹھہر گئیدیکھا جو اس نے پیار سے میں تو سنور گئی</p>
<p>تیرے لبوں سے سن کے صنم نام غیر کازندہ ہے جسم آج مگر روح مر گئی</p>
<p>بھوکے ہیں بچے عورتیں بے آبرو ہوئیہر سمت ہیں اداسیاں غیرت بھی مر گئی</p>
<p>کھلنا بکھرنا پھولوں کی قسمت میں ہے لکھامیں تو مہک تھی ہر سو فضا میں بکھر گئی</p>
<p>سننے لگے وہ غور سے محفل میں اب مجھےآنکھیں خوشی سے بھر گئیگل بھی نکھر گئی</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر


