Hamari Aawaz

غزل: وہ ترستا پھر رہا ہے ایک اک دانے کو آج

شعر و شاعری ← غزل
📅 05-04-2022 👁 13 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
شائع کردہ: ہماری آواز badge

<p>ازقلم: اسانغنی مشتاق رفیقی</p>
<p>جب کبھی کرتا ہوں میں، ظلم و ستم پر احتجاجلوگ کہتے ہیں رفیقیؔ کو نہیں کچھ کام کاج</p>
<p>سچ کو سچ ہی بولتا ہوں، جھوٹ میں کہتا نہیںحیف پاگل کہہ رہا ہے اُس پہ یہ میرا سماج</p>
<p>شہر کا حاکم ہمیشہ مجھ سے رہتا ہے خفامیں کبھی دیتا نہیں اُس کی حماقت کو خراج</p>
<p>شیخ جی کو بند مٹھی میں سبھی کچھ چاہئےاُن سے اچھا ہے مہاجن لیتا ہے کھل کر بیاج</p>
<p>کیا خبر بھی ہے تجھے یوں تیرے کاروبار پرتجھ کو کٹھ پتلی بنا کر کر رہا ہے کون راج</p>
<p>جس کے دسترخوان پر تھے سونے چاندی کے ظروفوہ ترستا پھر رہا ہے ایک اک دانے کو آج</p>
<p>سب میں ہل مل کر ہے وہ، سب دوست رکھتے ہیں اُسےجانتا کوئی نہیں پھر بھی رفیقیؔ کا مزاج</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

badge Assistant Editor ★★★★★
ہ

ہماری آواز

📍 Faizabad

📰 4832 پوسٹ👁 19417 قارئین📊 4 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

غزل: وہ جاتے ہوئے آسرا دے گيا

غزل: کیسے کٹے گی عمر میری مفلسی کے ساتھ

غزل: میری حالت پہ آہ کون کرے

مقبول ترین پوسٹس

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے!

👁 136 ویوز

حمد باری تعالیٰ

👁 102 ویوز

ایک مسلمان کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟

👁 96 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش

👁 80 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع

👁 80 ویوز