Hamari Aawaz

غزل: کیا ہوئیں باشا

شعر و شاعری ← غزل
📅 07-03-2022 👁 3 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
شائع کردہ: ہماری آواز badge

<p>اسانغنی مشتاق رفیقی، وانم باڑی</p>
<p>تمھارے سر کی تُرکی ٹوپیاں وہ کیا ہوئیں باشابڑے رُومال، اُجلی لُنگیاں وہ کیا ہوئیں باشاچبوترے جو کبھی پہچان تھے اچھے مکانوں کےبڑے لوگوں کی اُجلی داڑھیاں وہ کیا ہوئیں باشاوہ اُجلی چادریں اور کالے بُرقعے سیدھے سادے سےاور اُن میں سمٹی سمٹی بیبیاں وہ کیا ہوئیں باشابڑوں سے بات کرتے وقت سر کو ڈھانپ لیتی تھیںحیا پیکر ، مثالی بیٹیاں وہ کیا ہوئیں باشابروز عید جانا عید گاہ کو بیل گاڑی میںچونّی اور اٹھنّی عیدیاں وہ کیا ہوئیں باشاوہ مٹی کی پلیٹوں قابوں میں میلاد کی دعوتمہکتے دالچے بریانیاں وہ کیا ہوئیں باشاسیاست دوغلا پن سب کے لہجوں سے جھلکتا ہےشہر کی بھولی بھالی ہستیاں وہ کیا ہوئیں باشاجسے دیکھو لگا ہے چاپلوسی میں امیروں کیحمیّت، حوصلے، بے باکیاں وہ کیا ہوئیں باشاسمجھتی تھیں پڑھانے کو عبادت سے بھی افضل جورفیقی ؔ سیدھی سادی ہستیاں وہ کیا ہوئیں باشا</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

badge Assistant Editor ★★★★★
ہ

ہماری آواز

📍 Faizabad

📰 4832 پوسٹ👁 18626 قارئین📊 3.9 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

غزل: وہ جاتے ہوئے آسرا دے گيا

غزل: کیسے کٹے گی عمر میری مفلسی کے ساتھ

غزل: میری حالت پہ آہ کون کرے

مقبول ترین پوسٹس

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے!

👁 135 ویوز

حمد باری تعالیٰ

👁 101 ویوز

ایک مسلمان کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟

👁 95 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش

👁 80 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع

👁 79 ویوز