غزل: کیا ہوئیں باشا
<p>اسانغنی مشتاق رفیقی، وانم باڑی</p>
<p>تمھارے سر کی تُرکی ٹوپیاں وہ کیا ہوئیں باشابڑے رُومال، اُجلی لُنگیاں وہ کیا ہوئیں باشاچبوترے جو کبھی پہچان تھے اچھے مکانوں کےبڑے لوگوں کی اُجلی داڑھیاں وہ کیا ہوئیں باشاوہ اُجلی چادریں اور کالے بُرقعے سیدھے سادے سےاور اُن میں سمٹی سمٹی بیبیاں وہ کیا ہوئیں باشابڑوں سے بات کرتے وقت سر کو ڈھانپ لیتی تھیںحیا پیکر ، مثالی بیٹیاں وہ کیا ہوئیں باشابروز عید جانا عید گاہ کو بیل گاڑی میںچونّی اور اٹھنّی عیدیاں وہ کیا ہوئیں باشاوہ مٹی کی پلیٹوں قابوں میں میلاد کی دعوتمہکتے دالچے بریانیاں وہ کیا ہوئیں باشاسیاست دوغلا پن سب کے لہجوں سے جھلکتا ہےشہر کی بھولی بھالی ہستیاں وہ کیا ہوئیں باشاجسے دیکھو لگا ہے چاپلوسی میں امیروں کیحمیّت، حوصلے، بے باکیاں وہ کیا ہوئیں باشاسمجھتی تھیں پڑھانے کو عبادت سے بھی افضل جورفیقی ؔ سیدھی سادی ہستیاں وہ کیا ہوئیں باشا</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر


