Hamari Aawaz

غزل: کوئی یوسف ہی نہیں ہے بھرے بازار میں اب

شعر و شاعری ← غزل
📅 04-02-2022 👁 3 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
شائع کردہ: ہماری آواز badge

<p>خوشبو پروین قریشیپی ایچ ڈی،اردو یونی ورسٹی آف دہلی</p>
<p>پاؤں رکھنے کا ارادہ ہے کیا انگار میں ابوہ جلن خور سقم ڈھونڈے گا اشعار میں اب</p>
<p>حوصلے پست نظر آئے معالج کے مجھےکیسے امید نظر آئے گی بیمار میں اب</p>
<p>وہ انا دار سا لہجہ بھی نہیں ہے باقیوہ کڑک پن بھی نہیں آپ کی دستار میں اب</p>
<p>جن کو جانا ہے چلےجاءیں خوشامد کرنےمیں گئی تھی نہ کبھی جاؤں گی دربار میں اب</p>
<p>حسن آوارگی شہر کا قائل نہ رہاکوئی یوسف ہی نہیں ہے بھرے بازار میں اب</p>
<p>صبح کی چائے کا اک ساتھ ہی کافی ہے مجھےکب سکوں بخش خبر ملتی ہے اخبار میں اب</p>
<p>اب تو خوشبو جی کنارے ہی ڈبو دیتے ہیں.کویٔ کشتی بھی نہیں ڈوبتی مجھدھار میں اب</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

badge Assistant Editor ★★★★★
ہ

ہماری آواز

📍 Faizabad

📰 4832 پوسٹ👁 19777 قارئین📊 4.1 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

غزل: وہ جاتے ہوئے آسرا دے گيا

غزل: کیسے کٹے گی عمر میری مفلسی کے ساتھ

غزل: میری حالت پہ آہ کون کرے

مقبول ترین پوسٹس

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے!

👁 136 ویوز

حمد باری تعالیٰ

👁 102 ویوز

ایک مسلمان کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟

👁 96 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش

👁 80 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع

👁 80 ویوز