Hamari Aawaz

غزل: وہ پیٹھ پیچھے مجھے اک کمینہ کہتا ہے

شعر و شاعری ← غزل
📅 29-11-2021 👁 3 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
شائع کردہ: ہماری آواز badge

<p>ازقلم: اسانغنی مشتاق رفیقیؔوانم باڑی، تمل ناڈو</p>
<p>جو روبرو مجھے عمدہ نگینہ کہتا ہےوہ پیٹھ پیچھے مجھے اک کمینہ کہتا ہےمرے پسینےکوپانی بھی وہ نہیں کہتابہاؤں خون تو اُس کو پسینہ کہتا ہےزباں کی لاج ہے، جس کو دبا کے رکھنے میںوہ اُس کو شان سےپھیلا کے سینہ کہتا ہےسُنا ہےلاشوں پہ سجتے ہیں تختِ شاہ یہاںوہ تربتوں کوترقی کا زینہ کہتا ہےابھی کُھلا بھی نہیں کوئی بادباں اُس کاجسے توغرق شدہ اک سفینہ کہتا ہےبڑا حکیمِ ہےوہ شخص، اس کی قدر کروجوآدمی کوخدائی خزینہ کہتا ہےسمجھ رہے ہیں کچھ احباب بزدلی اس کورفیقیؔ جس کو ادب کا قرینہ کہتا ہے</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

badge Assistant Editor ★★★★★
ہ

ہماری آواز

📍 Faizabad

📰 4832 پوسٹ👁 18421 قارئین📊 3.8 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

غزل: وہ جاتے ہوئے آسرا دے گيا

غزل: کیسے کٹے گی عمر میری مفلسی کے ساتھ

غزل: میری حالت پہ آہ کون کرے

مقبول ترین پوسٹس

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے!

👁 134 ویوز

حمد باری تعالیٰ

👁 101 ویوز

ایک مسلمان کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟

👁 95 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش

👁 79 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع

👁 79 ویوز