غزل: ہم بیتے زمانوں کا احسان نہیں لیتے
📅 26-10-2021
👁 3 قارئین
💬 0 تبصرے
🔁 0 شیئر
شائع کردہ:
ہماری آواز
<p>نتیجہ فکر: اسانغنی مشتاق رفیقیؔ</p>
<p>اجڑے ہوئے محلوں سے پہچان نہیں لیتےہم بیتے زمانوں کا احسان نہیں لیتے</p>
<p>جو کچھ بھی ہیں جیسے ہیں خود اپنے کرم پر ہیںاجداد کے اترن سے ہم شان نہیں لیتے</p>
<p>تم کو ہی مبارک ہو یہ طوق غلامی کاارباب سیاست سے ہم دان نہیں لیتے</p>
<p>کس ناز سے کہتے ہیں وہ قتل ہمیں کر کےبس جسم مٹاتے ہیں ہم جان نہیں لیتے</p>
<p>ہم اپنے عقیدوں کے ہر رمز سمجھتے ہیںتقلید کے پنوں سے احسان نہیں لیتے</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر


