غزل: بھلا کیسے گرفتارِ محبت ہوگئے ہم تم
<p>نتیجۂ فکر: ذکی طارق بارہ بنکویسعادت گنج، بارہ بنکی، یو۔پی۔ بھارت</p>
<p>کہو، اک دوسرے کی کب ضرورت ہو گئے ہم تمبھلا کیسے گرفتارِ محبت ہوگئے ہم تم</p>
<p>انا،عدل،آتما،سچ سب کا سودا یار کر بیٹھےستم ہے اس طرح سے نذرِ غربت ہوگئے ہم تم</p>
<p>محبت کے مقدس محترم ماحول میں رہ کرذرا دیکھو تو کتنے خوبصورت ہوگئے ہم تم</p>
<p>غلط فہمی،غرور و شان و ضد اور وہم کے ہاتھوںبس اک پل میں محبت سے عداوت ہوگئے ہم تم</p>
<p>زہے قسمت اے ہمدم اپنے فرطِ عشق کے صدقےجنوں کی ایک تاریخی حکایت ہوگئے ہم تم</p>
<p>چھٹے جب بدگمانی کے اندھیرے تب سمجھ پائےکہ ترکِ عشق سے محرومِ نعمت ہوگئے ہم تم</p>
<p>ہماری دوستی کو دیکھ کر کُڑھتے ہیں بیچارےجہاں والوں کی خاطر یار زحمت ہوگئے ہم تم</p>
<p>سبھی کہتے ہیں طفلی میں بہت معصوم بھولے تھےجواں ہو کر بھلا کیسے قیامت ہو گئے ہم تم</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر


