غزل: کر لوں سب کے دل میں گھر ایسی مناجاتیں سکھا
<p>نتیجۂ فکر: ذکی طارق بارہ بنکویسعادت گنج بارہ بنکی، یو۔پی۔ بھارت</p>
<p>جو سکھانا ہے تو پھر اس ڈھنگ کی باتیں سکھاکر لوں سب کے دل میں گھر ایسی مناجاتیں سکھا</p>
<p>مجھ کو تنہا کرنے سے پہلے اے میرے ہم نفسکیسے کاٹوں گا میں تیرے ہجر کی راتیں سکھا</p>
<p>دور سے دیدار کی بس پوری ہونگی حسرتیںجو بنا دیں آشنا ایسی ملاقاتیں سکھا</p>
<p>اپنے شوقِ گریہ سے موسم زدہ بادل کو توکیسے بے موسم ہوا کرتی ہیں برساتیں سکھا</p>
<p>رات کو دن کرنے والے اے مرے شاطر عزیزجیسے تو چلتا ہے یوں چلنا مجھے گھاتیں سکھا</p>
<p>ورد نے جن کے تجھے خوشیاں ہی خوشیاں بخشی ہیںمجھ کو بھی پڑھنا محبت کی وہ آیاتیں سکھا</p>
<p>دردِ دل، آنکھوں میں آنسو اور تبسم، پیار میںکیسے دی جاتی ہیں یہ انمول سوغاتیں سکھا</p>
<p>میں بھی معراجِ محبت چاہتا ہوں جانِ منمجھ کو اندازِ محبت کی ہدایاتیں سکھا</p>
<p>عشق سے ناآشنا ہوں تیرے جلوؤں کی قسمآ کے اپنے حسنِ دلکش کی مداراتیں سکھا</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر


