غزل: ہم تو صحرا ہی میں یوں بھٹکتے رہے
📅 12-02-2021
👁 2 قارئین
💬 0 تبصرے
🔁 0 شیئر
شائع کردہ:
ہماری آواز
<p>خیال آرائی: گل گلشنممبئی</p>
<p>جب سمندر ملا تشنگی نہ رہیہم تو صحرا ہی میں یوں بھٹکتے رہے</p>
<p>دل نے ہم سے کہا تم جفا کار ہوہم ہی نادان تھے تم پہ مرتے رہے</p>
<p>حسن اب غیر کا ان کو یوں بھا گیاہم تو ان کے لئے ہی سنورتے رہے</p>
<p>چھوڑنا تو انھیں ہم پہ دشوار تھاساتھ رہنے سے بھی وہ مکرتے رہے</p>
<p>وقت گلشن کا تجھ بن بدل سا گیایوں تو گل بھی کھلے اور بکھرتے رہے</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر


