Hamari Aawaz

غزل: ورنہ رشتے سبھی کاغذی سے رہے

شعر و شاعری ← غزل
📅 06-02-2021 👁 2 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
شائع کردہ: ہماری آواز badge

<p>خیال آرائی: گل گلشن، ممبئی</p>
<p>ہے بڑا تو وہی عاجزی سے رہےسارے شکوے بھلا کر خوشی سے رہے</p>
<p>موت جب آئے گی تنہا لے جاۓ گیہم یہی سوچ کر سادگی سے رہے</p>
<p>جب تلک ان کو ہم سے یوں مطلب رہاتب تلک مہرباں چاشنی سے رہے</p>
<p>تیرے ہر ایک ستم کو گنوارا کیاہم نے کچھ نہ کہا خامشی سے رہے</p>
<p>ایک رشتہ تمہارا ہی مضبوط تھاورنہ رشتے سبھی کاغذی سے رہے</p>
<p>اب کے اہل سیاست کا فرمان ہےصحن مقتل میں گل تازگی سے رہے</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

badge Assistant Editor ★★★★★
ہ

ہماری آواز

📍 Faizabad

📰 4832 پوسٹ👁 19955 قارئین📊 4.1 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

غزل: وہ جاتے ہوئے آسرا دے گيا

غزل: کیسے کٹے گی عمر میری مفلسی کے ساتھ

غزل: میری حالت پہ آہ کون کرے

مقبول ترین پوسٹس

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے!

👁 136 ویوز

حمد باری تعالیٰ

👁 103 ویوز

ایک مسلمان کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟

👁 96 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش

👁 88 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع

👁 80 ویوز