غزل: ورنہ رشتے سبھی کاغذی سے رہے
📅 06-02-2021
👁 2 قارئین
💬 0 تبصرے
🔁 0 شیئر
شائع کردہ:
ہماری آواز
<p>خیال آرائی: گل گلشن، ممبئی</p>
<p>ہے بڑا تو وہی عاجزی سے رہےسارے شکوے بھلا کر خوشی سے رہے</p>
<p>موت جب آئے گی تنہا لے جاۓ گیہم یہی سوچ کر سادگی سے رہے</p>
<p>جب تلک ان کو ہم سے یوں مطلب رہاتب تلک مہرباں چاشنی سے رہے</p>
<p>تیرے ہر ایک ستم کو گنوارا کیاہم نے کچھ نہ کہا خامشی سے رہے</p>
<p>ایک رشتہ تمہارا ہی مضبوط تھاورنہ رشتے سبھی کاغذی سے رہے</p>
<p>اب کے اہل سیاست کا فرمان ہےصحن مقتل میں گل تازگی سے رہے</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر


