غزل: ہو گئی میری طرز وفا باغ باغ
📅 25-01-2021
👁 2 قارئین
💬 0 تبصرے
🔁 0 شیئر
شائع کردہ:
ہماری آواز
<p>نتیجۂ فکر: سید اولاد رسول قدسینیویارک امریکہ</p>
<p>سنگ شیشے سے مل کر ہوا باغ باغچشم حیرت ہوئی پر ضیا باغ باغبے رخی کی نظر سے ملا کر نظرہو گئی میری طرز وفا باغ باغ</p>
<p>کیسے پہنچے کوئی اس کی تہہ تک بھلااوڑھ کر ہے جو غم کی ردا باغ باغمیں تو غلطاں تھا سوچوں کی پاتال میںیک بیک کر گئی اک صدا باغ باغ</p>
<p>اس کے قدموں کی آہٹ کے سرتال پرہوگئی باغ دل کی ہوا باغ باغتھی نظر جس کی چاہت کے زیر نگیںکیسے کرتی نہ اس کی ادا باغ باغ</p>
<p>جانے کیا خاص پیغام لائی ہے یہ</p>
<p>آج لگتی ہے باد صبا باغ باغدست جور و جفا کی حوالات میںرہ نہ پائے گا رنگ حنا باغ باغپیکر رشک قدسیؔ ہے اس کی حیاتآیا روتا ہوا اور گیا باغ باغ</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر


