نظم: سال نیا ہے، حال وہی ہے
<p>نتیجۂ فکر: سلمان رضا فریدی مصباحی، مسقط عمان</p>
<p>دنیا کی ہر چال وہی ہےسال نیا ہے ، حال وہی ہے</p>
<p>زخمی دل اور لب پر آہیںروتی ہیں دنیا کی آنکھیںآفت اور جَنجال وہی ہےسال نیا ہے حال وہی ہے</p>
<p>شمع جلی ، پروانہ مَچلاکوئ سوز و ساز نہ بدلارُت ہے وہی ، سُر تال وہی ہےسال نیا ہے حال وہی ہے</p>
<p>سوتے ہم ، بیدار شکاریپَھندے کستے باری باریگھات وہی اور جال وہی ہےسال نیا ہے، حال وہی ہے</p>
<p>آپس کی رنجش میں جینابغض و تکبر کھانا پیناروٹی ، چاول، دال وہی ہےسال نیا ہے ، حال وہی ہے</p>
<p>اپنے ہاتھوں اپنی ذلتکب سنبھلیں گے اہلِ ملتکَٹتی ، گِرتی ، ڈال وہی ہےسال نیا ہے حال وہی ہے</p>
<p>ملک کے حاکم ، ظالم و جابرتن کے بھولے من کے شاطرخونی اُن کی تھال وہی ہےسال نیا ہے حال وہی ہے</p>
<p>دھوکے کھائے ، جان گنوائپھر بھی ہم کو عقل نہ آئدائم ٹیڑھی چال وہی ہےسال نیا ہے حال وہی ہے</p>
<p>ہمت والے ، میداں میں ہیںبزدل گھر کے ایواں میں ہیںسب کا اِستدلال وہی ہےسال نیا ہے حال وہی ہے</p>
<p>رب پہ یقیں ، راحت کا گلشنچھوڑو مت ہمت کا دامنہر مشکل میں ڈھال وہی ہےسال نیا ہے ، حال وہی ہے</p>
<p>بیکس کو دے طاقت مولیٰظالم سب ہوجائیں رسوااب بھی اِستِحصال وہی ہےسال نیا ہے، حال وہی ہے</p>
<p>گر ہم مل کر آگے بڑھتےعزت ملتی ، غالب رہتےدوری پھر اِمسال وہی ہےسال نیا ہے حال وہی ہے</p>
<p>جنوری ہو یا ماہِ دسمبرسب کا فریدی ! ایک ہی منظرتفصیل و اِجمال وہی ہےسال نیا ہے حال وہی ہے</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر


