Hamari Aawaz

نظم: سال نیا ہے، حال وہی ہے

شعر و شاعری ← نظم
📅 02-01-2021 👁 2 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
شائع کردہ: ہماری آواز badge

<p>نتیجۂ فکر: سلمان رضا فریدی مصباحی، مسقط عمان</p>
<p>دنیا کی ہر چال وہی ہےسال نیا ہے ، حال وہی ہے</p>
<p>زخمی دل اور لب پر آہیںروتی ہیں دنیا کی آنکھیںآفت اور جَنجال وہی ہےسال نیا ہے حال وہی ہے</p>
<p>شمع جلی ، پروانہ مَچلاکوئ سوز و ساز نہ بدلارُت ہے وہی ، سُر تال وہی ہےسال نیا ہے حال وہی ہے</p>
<p>سوتے ہم ، بیدار شکاریپَھندے کستے باری باریگھات وہی اور جال وہی ہےسال نیا ہے، حال وہی ہے</p>
<p>آپس کی رنجش میں جینابغض و تکبر کھانا پیناروٹی ، چاول، دال وہی ہےسال نیا ہے ، حال وہی ہے</p>
<p>اپنے ہاتھوں اپنی ذلتکب سنبھلیں گے اہلِ ملتکَٹتی ، گِرتی ، ڈال وہی ہےسال نیا ہے حال وہی ہے</p>
<p>ملک کے حاکم ، ظالم و جابرتن کے بھولے من کے شاطرخونی اُن کی تھال وہی ہےسال نیا ہے حال وہی ہے</p>
<p>دھوکے کھائے ، جان گنوائپھر بھی ہم کو عقل نہ آئدائم ٹیڑھی چال وہی ہےسال نیا ہے حال وہی ہے</p>
<p>ہمت والے ، میداں میں ہیںبزدل گھر کے ایواں میں ہیںسب کا اِستدلال وہی ہےسال نیا ہے حال وہی ہے</p>
<p>رب پہ یقیں ، راحت کا گلشنچھوڑو مت ہمت کا دامنہر مشکل میں ڈھال وہی ہےسال نیا ہے ، حال وہی ہے</p>
<p>بیکس کو دے طاقت مولیٰظالم سب ہوجائیں رسوااب بھی اِستِحصال وہی ہےسال نیا ہے، حال وہی ہے</p>
<p>گر ہم مل کر آگے بڑھتےعزت ملتی ، غالب رہتےدوری پھر اِمسال وہی ہےسال نیا ہے حال وہی ہے</p>
<p>جنوری ہو یا ماہِ دسمبرسب کا فریدی ! ایک ہی منظرتفصیل و اِجمال وہی ہےسال نیا ہے حال وہی ہے</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

badge Assistant Editor ★★★★★
ہ

ہماری آواز

📍 Faizabad

📰 4832 پوسٹ👁 20209 قارئین📊 4.2 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

نظم: اپنا بھارت ہے یہ

کب اخوت کے گلشن کھلیں گے

خدا کی مہربانی

مقبول ترین پوسٹس

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے!

👁 141 ویوز

حمد باری تعالیٰ

👁 103 ویوز

ایک مسلمان کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟

👁 96 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش

👁 88 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع

👁 80 ویوز