نعت رسول: نور والا آیا ہے آمنہ کے آنگن میں
<p>کیا حسیں نظارہ ہے آمنہ کے آنگن میںنور والا آیا ہے آمنہ کے آنگن میں</p>
<p>رخ ہوا نے بدلہ ہے آمنہ کے آنگن میںابر نور چھایا ہے آمنہ کے آنگن میں</p>
<p>شادیانے بجتے ہیں ان کی آمد آمد کےدیکھو کون آیا ہے آمنہ کے آنگن</p>
<p>بھاگ بے سہاروں کے آج کھل گئے دیکھوآیا ان کا مولا ہے آمنہ کے آنگن میں</p>
<p>خوش بھلا نہ کیونکر ہوں آج سارے دیوانےآیا ان کا آقا ہے آمنہ کے آنگن میں</p>
<p>آج گلیاں مکے کی نور سے منور ہیںایسا نور پھیلا ہے آمنہ کے آنگن میں</p>
<p>آئیں مریم و حوا ساتھ آسیہ بھی ہیںواہ کیا نظارہ ہے آمنہ کے آنگن میں</p>
<p>عرش تا زمیں دیکھو شادیانے بجتے ہیںقدسیوں کا میلا ہے آمنہ کے آنگن میں</p>
<p>آو غمزدو! دیکھو رب نے کس کو بھیجا ہےسب کا جو سہارا ہے آمنہ کے آنگن میں</p>
<p>ظلمتوں کے سایے اب جس سے مٹنے والے ہیںوہ ہلال چمکا ہے آمنہ کے آنگن میں</p>
<p>جس کی بھینی خوشبو سے دو جہاں معطّر ہیںایسا پھول مہکا ہے آمنہ کے آنگن میں</p>
<p>ان کی آج آمد ہے جن کے دم سے اے شاہدہر طرف اجالا ہے، آمنہ کے آنگن میں</p>
<p>صبح صادق اے شاہد ہر طرف صدا گونجیرب کا پیارا آیا ہے آمنہ کے آنگن میں</p>
<p>ازقلم: محمد شاہد رضا رضوی</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر


