Hamari Aawaz

کیا یہی میری محبت کا صلہ ہے؟؟؟

مضامین و مقالات ← ایڈیٹر کے قلم سے
📅 09-04-2020 👁 13 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
شائع کردہ: محمد شعیب رضا badge

<p>ایڈیٹر کے قلم سے</p>
<p>امریکی صدر ٹرمپ جی اور ہندوستانی وزیر اعظم مودی جی کا یارانہ کوئی نیا نہیں، کافی پرانا ہے۔ وہ وقت آج بھی ہم اہلیان ہند کو بڑے اچھے سے یاد ہے جب امریکہ میں انتخاب عام ہونے والا تھا اور ٹرمپ جی کی حمایت میں وزیر اعظم مودی جی جنھیں میں بہت پیار سے صاحب جی لکھا کرتا ہوں وہ امریکہ تک پہونچ گئے اور ان کے ہمنواؤں نے ٹرمپ جی کی انتخابی کامیابی کے لیے ہندوستان میں بھی پوجا پاٹ تک کرڈالا تھا، سوشل میڈیا کی سرخیاں تو یہ بات تک بن گئی تھی کہ ٹرمپ جی وہ انتخاب جیتتے ہی نہیں مگر صاحب کے مشوروں سے ہی انہوں انتخاب عام میں کامیابی حاصل کر اقتدار کی کرسی پائی۔ شاید یہ یارانہ اسی وقت شروع ہوا تھا۔ اور ابھی حالیہ دنوں میں جب پوری دنیا کورونا نامی قدرت کے قہر سے جوجھ رہی تھی صورت حال یہ بن چکے تھے کہ اکثر ممالک نے اپنی سرحدوں کو سیل کرنا شروع کردیا تھا بعینہ اسی وقت امریکی صدر ٹرمپ جی دورۂ ہند پر تھے اور صاحب نے اپنے اس یار کی آؤ بھگت میں پانچ،دس کروڑ نہیں بلکہ تقریبا ایک سو بیس کروڑ تک خرچ کر ڈالے۔ اور اس کے معا بعد جب ملک میں مہاماری کی وجہ سے لاک ڈاؤن کا اعلان ہوا تب ہمارے صاحب کو عوام سے ہی چندہ تک مانگنا پڑا۔ اپنے ملک کی مہمان نوازی شاید پہلے اتنی مشہور نہ رہی ہو جتنی صاحب نے اپنے اس طرز عمل سے کر دکھایا۔ اور ا قابل غور بات تو یہ ہے کہ دہلی سے لے کر آگرہ تک صاحب نے جن مقامات کی زیارت ٹرمپ جی کو کرائی وہ وہی مقامات تھے جنھیں ہر موقع پر دہشت گرد کہے جانے والی قوم "مسلم" کے سابقہ حکمرانوں نے بنوایا تھا۔ خیر اس سے کوئی بحث بھی نہیں کیوں کہ پوری دنیا جانتی ہے انھیں مقامات کی زیارت سے ملنے والی خطیر رقم حکومتوں کی گاڑیوں کا ایک پہیہ چلاتی ہے۔ مگر تعجب اس وقت ہوا جب امریکی صدر کے اس دورۂ ہند میں کئی ایک غیر ملکی صحافیوں اور سفیروں نے شرکت کی بالخصوص چینی، جبکہ پوری دنیا جان چکی تھی کہ کورونا وائرس جیسی مہلک وبا کی پیدائش چین ہی میں ہوئی ہے۔ اور جس طرح ہندوستانی میڈیا نے مرکز کے معاملہ کو لے کر چھوا چھوت کی حد پار کردی تھی اس کے تناظر میں یہ کہنا بلکہ ہی ناروا نہیں ہوگا کہ شاید انھیں غیر ملکیوں کی اس شمولت سے ہی اپنے عزیز ترین ملک ہندوستان میں کورونا نے قدم رکھا۔ خیر ملک کے وزیر اعظم اور ان کے ہمنواؤں نے ٹرمپ جی کی یاری میں آخر کیا کمی کردی کہ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود جب دنیا یہ کہہ رہی تھی کہ&nbsp;</p>
<p>کیا کیا نہ کیا یار نے دل دار کے لیے</p>
<p>تبھی اس دل دار نے ایسا زخم دیا کہ پوچھئے مت؛ اس مصیبت کی گھڑی میں ہی اس نے زبردست دھوکا دیا اور اپنے یار کو دھمکی تک دے ڈالی کہ اگر انھوں نے ملیریا کی دوا امریکہ نہیں بھیجا تو یار کو دل دار کے حسین نہیں کڑوے عتابوں کا شکار ہونا پڑے گا۔ اور تعجب کی بات تو یہ ہے کہ چوکی دار کے نام سے مشہور چھپپن انچ کے سینے والے ہمارے ملک کے وزیر اعظم جناب مودی جی نے اس دھمکی کے آگے سر تسلیم خم کردیا۔ اب اس دھمکی کو لے کر صاحب کے کیا تاثرات ہیں یہ تو من کی بات ہے۔ پردے میں ہے، اور شاید آگے بھی ایک معمہ بن کر رہ جائے مگر اہلیان ہند کی دلی صدا یہی ہے۔</p>
<p>کیا یہی میری محبت کا صلہ ہے؟؟؟؟</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

badge Rising Writer ★★★★★
M

Mohd Shuaib Raza

📍 Gorakhpur

📰 45 پوسٹ👁 1095 قارئین📊 24.3 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

غزل: نہیں تم ہو بھارت چلانے کے قابل

کرناٹک ہائی کورٹ کا فیصلہ! اب کس دیوار پہ سر اپنا پٹکوں؟

سانس بھی لوگے تو غدار کہا جائے گا

مقبول ترین پوسٹس

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے!

👁 135 ویوز

حمد باری تعالیٰ

👁 101 ویوز

ایک مسلمان کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟

👁 95 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش

👁 80 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع

👁 79 ویوز