نعت شریف: طیبہ نگر کو دیکھوں تو دل کو قرار ہو
<p>از قلم:شیخ عسکری رضوی بنارسی7856932585</p>
<p>دل ہی نہیں یہ جان بھی اس پر نثار ہوطیبہ نگر کو دیکھوں تو دل کو قرار ہو</p>
<p>جب روح میری تن سے جدا ہو شہ امماس دم نظر میں تیرا مقدس دیار ہو</p>
<p>محشر کے روز نعت کے صدقے میں یا خداان کے ثناگروں میں ہمارا شمار ہو</p>
<p>بخشش مری کرانا تو میدان حشر میںجس دم خدا کے آگے یہ عصیاں شعار ہو</p>
<p>اتنی سی آرزو ہے کہ میری نگاہ میںپیارے رسولِ پاک کا پیارا دیار ہو</p>
<p>خلد بریں میں جائے گا وہ جھومتا ہواسرکار کے غلاموں میں جو بھی شمار ہو</p>
<p>سرکارِ غوث پاک کے صدقے میں ہے دعااطوار میں مرے بھی خدایا سدھار ہو</p>
<p>احمد رضا کے در سے ہمیں یہ ملا سبقجو ان کا ہے اسی سے ملا دل کا تار ہو</p>
<p>لب پر ہے بزمِ مشق سخن کے لیے دعاحاصل جہان میں اسے عِزّو وقار ہو</p>
<p>دیدار ان کا ہوگا تجھے عسکری اگرہر وقت دیکھنے کا نگہ میں خمار ہو</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر


