نعت رسول: خوابیدہ مقدر کو جگانے میں لگے ہیں
<p>نتیجہ فکر: محمد زاہد رضا بنارسیدارالعلوم حبیبیہ رضویہ گوپی گنج۔بھدوہی۔یوپی بھارت</p>
<p>خوابیدہ مقدر کو جگانے میں لگے ہیںہم روضۂ سرکار پہ جانے میں لگے ہیں</p>
<p>اعدائے نبی آگ لگانے میں لگے ہیںہم ناد علی پڑھ کے بجھانے میں لگے ہیں</p>
<p>سرکار کی قدموں کی فیوضات کی خاطرجبریل امیں پر کو بچھانے میں لگے ہیں</p>
<p>محشر میں گنہگاروں کی بخشش کے لئے بسرب کو مرے سرکار منانے میں لگے ہیں</p>
<p>دیکھو تو ذرا آقا کی ہم سب سے محبتخود بھوکے رہے ہم کو کھلانے میں لگے ہیں</p>
<p>سرکار مرے دامن الطاف و کرم میںامّت کے گناہوں کو چھپانے میں لگے ہیں</p>
<p>پھر بھیج دے دنیا میں عمر کوئی خدایاپھر دشمنِ دیں دین مٹانے میں لگے ہیں</p>
<p>میلادِ نبی ہے مری بخشش کا سہارالیکن اسے بدعت وہ بتانے میں لگے ہیں</p>
<p>عشّاق کو محشر میں اے" زاہد "مرے رب سےپروانہ ء جنت وہ دلانے میں لگے ہیں</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر


