نعت شریف: بادۂ عشقِ رسالت کا جو میخوار رہے
<p>نتیجہ فکر: غلام محی الدین جیلانی عرشی</p>
<p>دل غمِ فرقتِ سرکار میں بیمار رہےآنکھ بھی طالبِ حُسنِ شہِ ابرار رہے</p>
<p>آنکھ کے سامنے گر روضہ سرکار رہےہیچ پھر میرے لیے رونقِ گلزار رہے</p>
<p>تیرے عاشق پہ ضروری ہے تری اُلفت میںتيرے دشمن کے لئے آہنی تلوار رہے</p>
<p>جام و مینا سے اُسے کوئی غرض ہو کیونکرباده عشقِ رسالت کا جو میخوار رہے</p>
<p>تیری یادوں کے سوا کچھ نہ سمائے اِس میںدل ترے عشق میں کُچھ ایسے گرفتار رہے</p>
<p>ربط کُچھ ایسا مدینہ سے مرا ہو جائےہند میں جِسم ہو دِل حاضرِ دربار رہے</p>
<p>یا الہٰی یہ دعا ہے کہ قیامت کے دناُنکے دامن میں چُھپا انکا گنہگار رہے</p>
<p>نجدیا کرتا ہے توہینِ رسالت کیونکہاُسکو منظور ہے شاید کہ وہ في النار رہے</p>
<p>یا الہٰی یہ دعا ہے کہ دلِ عرشیؔ میںتا ابد نقش جمالِ شہِ ابرار رہے</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر


