Hamari Aawaz

نظم: خوفناک لہر

شعر و شاعری ← نظم
📅 26-07-2021 👁 2 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
شائع کردہ: ہماری آواز badge

<p>ازقلم: شیبا کوثربرہ بترہ آرہ (بہار) انڈیا</p>
<p>ساحل پر کھڑا کوئی ملاحآندھیوں کے تھمنے کے انتظار میںکھڑا ہے کب سےدعا مانگ رہا ہے رب سےیہ آندھی ہے یا ہے کوئی عذاب الہیآندھی تو ضروری ہےیہ تو بارش کا پیش خیمہ ہےجس کا انتظار دہقانکرتے ہیں روز و شبسمندر سے اگر نا اٹھے یہ آندھیا ںہو جائیں گی برباد سبھی کھیتیاںمگر شاید یہ آندھی وہ آندھی نہیںیہ تو بربادی کا ہے پیش خیمہ ہےلہر یں اٹھ رہی ہیں بے قابوساحل سے دور نکلتی جا رہی ہیںفصلوں کو یہ روند تی جا رہی ہیںروکنا ضروری ہے ان لہر وں کوورنہ کھو جائے گا ہر اک خواباور نہ ہوگا تاریخ میںتمہارا کوئی بھی بابیا الہی یہی دعا ہے میریکہ بس زور کم ہو جائےان آندھیوں کااب لہریں کوئی بھی نہیں اٹھیںسمندر سے خوفناکزمین سیر اب ہو ،نئے پود ھے اُ گیںاور پھر سے سمندر میںباد بان لے کر نکل پڑ وں۔۔۔!!</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

badge Assistant Editor ★★★★★
ہ

ہماری آواز

📍 Faizabad

📰 4832 پوسٹ👁 19426 قارئین📊 4 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

نظم: اپنا بھارت ہے یہ

کب اخوت کے گلشن کھلیں گے

خدا کی مہربانی

مقبول ترین پوسٹس

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے!

👁 136 ویوز

حمد باری تعالیٰ

👁 102 ویوز

ایک مسلمان کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟

👁 96 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش

👁 80 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع

👁 80 ویوز