ترانہ: گاؤ مل کر ترانے حضور آگئے
<p>12/ربیع الاول کے دن کی خصوصی پیش کش</p>
<p>نتیجہ فکر: ازہرالقادریجامعہ اہل سنت امدادالعلوم مٹہنا کھنڈسری سدھارتھ نگر یوپی انڈیا۔9450387786 / 9559494786</p>
<p>جھومو! خوشیاں مناؤ! مچلتے چلو! ، گاؤ! مل کر ترانے حضور آگئےمرحبا مرحبا مرحبا مرحبا ، کل جہاں جگمگانے حضور آگئے</p>
<p>سب سےاول ہیں وہ سب سےآخرہیں وہ،سرّ باطن ہیں وہ شان ظاہرہیں وہفلسفہ کیا ہے انسانیت کا اُسے ، سب کو یک ساں بتانے حضور آگئے</p>
<p>بے بسوں بے کسوں کے وہ غم خوارہیں،رب کےمحبوب، مالک ہیں،مختارہیںسب کی فریاد سنتے ہیں وہ بالیقیں، چلیے دُکھڑا سنانے، حضور آگئے</p>
<p>دل کی بستی محبت سے آباد ہے ، دیکھیے جس طرف ہر کوئی شاد ہےبا ادب چل رہے ہیں مچلتے ہوئے ، مصطفیٰ کے دِوانے ، حضور آگئے</p>
<p>ہرطرف جہل و ظلمت کی جھنکار تھی ، ہرگھڑی زندگانی کی دشوار تھیکفر و ظلمت مٹاتے ہوئے مرحبا ، ہر پل آساں بنانے حضور آگئے</p>
<p>ظلم ہی ظلم کا ہر طرف شور تھا ، ظالموں کا بہراک طرف زور تھاآگئے مصطفیٰ ظلم تھرا گیا ، سب لگے مسکرانے، حضور آگئے</p>
<p>سسکیوں میں بندھی تھیں سبھی بیٹیاں،اُنکےجینے کی تھیں جاں بلب کھتیاںزندہ در گور کرنا غلط بات تھی ، بیٹیوں کو بچانے حضور آگئے</p>
<p>گر رہے تھے جو ، اُن کو اُٹھائے سبھی ، کہہ رہی ہے یقیناً یہ تاریخ بھیگر چکے تھے جو ، اُن کو مرے دوستو !،اپنے ہاتھوں اُٹھانے حضور آگئے</p>
<p>اب نہ نمرود کا زور چل پائے گا ، اب نہ فرعون کوئی نکل پائے گالے کے تیور بَراہیمی و موسوی ظالموں کو دھنسانے حضور آگئے</p>
<p>ان کے آنے سے ہے یہ بہار چمن ، جگمگانے لگے یہ زمین و گگنحور و غلما ملک جھومنے لگ گئے ، غنچۂ دل کھلانے حضور آگئے</p>
<p>حق تعالی ٰ کا ازہر یہ احسان ہے ، مصطفیٰ جان رحمت کا فیضان ہےہم جلوسِ نبی میں چلے شان سے ، آج جھنڈا اُڑانے، حضور آگئے</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر


