Hamari Aawaz

یوم آزادی اور ملک کی موجودہ حالت پر ایک نظم

شعر و شاعری ← نظم
📅 28-01-2021 👁 2 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
شائع کردہ: ہماری آواز badge

<p>نتیجۂ فکر: شمیم رضا اویسی امجدیمدینۃ العلماء گھوسی مئو</p>
<p>پهٹا لباس ہے، زخمی ہے تن بدن میرامیں کیسے کہ دوں کہ آزاد ہے وطن میرا</p>
<p>یہاں پہ چار سو حیوانیت کا ڈیرا ہےیہاں تو صرف مظالم کا ہی بسیرا ہےنہ پہلے جیسا یہاں اب کوئی سویرا ہےفقط یہاں پہ تو نفرت کا ہی اندهیرا ہےتها ملک پیار و محبت سے ضوفگن میرامیں کیسے کہ دوں کہ آزاد ہے وطن میرا</p>
<p>ہر ایک گل ہے پریشاں' اداس برگ و ثمرفضائیں آج ہیں مایوس غمزدہ ہیں شجررہے نہ پہلے سے نغمے طیور کے لب پریہ کس کی لگ گئی گلشن کو ہائے میرے نظرکہ آج ہو گیا ویران یہ چمن میرامیں کیسے کہ دوں کہ آزاد ہے وطن میرا</p>
<p>لہو بہا کے جنہوں نے ہمیں دی آزادیہمیشہ ان میں تهی قائم فضا محبت کیپر آج جنگ ہے مذہب کے نام پر جاریجدهر بهی دیکهیئے بس اس طرف ہے خونریزیلہو میں ڈوبا ہوا ہے یہ باغ و بن میرامیں کیسے کہ دوں کہ آزاد ہے وطن میرا</p>
<p>یہاں پہ آج ہر اک دل میں بس عداوت ہےیہاں پہ برپا اب ہر چار سو قیامت ہےجدهر بهی دیکهو ادهر ظلم و بربریت ہےہے ہر سو رنج و مصیبت ہر اک سو وحشت ہےیہ ملک پہلے تها الفت کی انجمن میرامیں کیسے کہ دوں کہ آزاد ہے وطن میرا</p>
<p>بہار گلشن ہندوستاں ہوئی رخصتکہ ہم سے رونق ارض و سماں ہوئی رخصتہر ایک شخص ہے مظلومیت کے چنگل میںشمیم ہم سے یہاں ہر اماں ہوئی رخصتاداس آج ہے یہ سوچ کر کے من میرامیں کیسے کہ دوں کہ آزاد ہے وطن میرا</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

badge Assistant Editor ★★★★★
ہ

ہماری آواز

📍 Faizabad

📰 4832 پوسٹ👁 19522 قارئین📊 4 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

نظم: اپنا بھارت ہے یہ

کب اخوت کے گلشن کھلیں گے

خدا کی مہربانی

مقبول ترین پوسٹس

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے!

👁 136 ویوز

حمد باری تعالیٰ

👁 102 ویوز

ایک مسلمان کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟

👁 96 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش

👁 80 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع

👁 80 ویوز