نظم: پھر دیش کو سرسبز بنا کیوں نہیں دیتے
<p>نتیجۂ فکر: محمد زاہد رضا بنارسی</p>
<p>پھر دیش کو سرسبز بنا کیوں نہیں دیتےتم اس کولہو مرا پلا کیوں نہیں دیتے</p>
<p>تم اس طرح نفرت کو مٹا کیوں نہیں دیتےاک پیڑ محبت کا لگا کیوں نہیں دیتے</p>
<p>بھارت کے مہاراجہ کا اجمیر ہے مسکنیہ بات زمانے کو بتا کیوں نہیں دیتے</p>
<p>جس شہر میں یہ لال قلعہ تاج محل ہےاس شہر کی گلیوں میں گھما کیوں نہیں دیتے</p>
<p>شک جن کو ہو بھارت کے حسیں ہونے پہ ان کوتم وادی کشمیر دکھا کیوں نہیں دیتے</p>
<p>یہ اپنا وطن اپنا وطن اپنا وطن ہےجاں اس کے لیے اپنی لٹا کیوں نہیں دیتے</p>
<p>جو آنکھ دکھاتا ہے مرے پیارے وطن کواس شخص کی ہستی کومٹا کیوں نہیں دیتے</p>
<p>ہیں برق و شرر دیش میں موجود ہمارےدشمن کو یہ آئینہ دکھا کیوں نہیں دیتے</p>
<p>مل جل کے سبھی ساتھ رہیں دیش میں "زاہد"یہ نغمہ محبت کا سنا کیوں نہیں دیتے</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر


