منقبت: کِس زباں سے ہو بیاں کیا ہیں مِرے احمد کبیر
📅 08-01-2021
👁 2 قارئین
💬 0 تبصرے
🔁 0 شیئر
شائع کردہ:
ہماری آواز
<p>نتیجۂ فکر: توصیف رضا رضوی، باتھ اصلی، سیتامڑھی بہار</p>
<p>کِس زباں سے ہو بیاں کیا ہیں مِرے احمد کبیردِل کے زخموں کا مداوا ہیں مِرے احمد کبیر</p>
<p>یہ نہ چھوڑیں گے کبھی چاہے زمانہ چھوڑ دےغم کے ماروں کا بھروسہ ہیں مِرے احمد کبیر</p>
<p>اُن کے در کی خاک منہ پر مَل رہا ہوں اِس لئےعاشقِ سرکارِ بطحا ہیں مِرے احمد کبیر</p>
<p>میرا دامن کیوں نہیں رہتا کبھی خالی سنومیں گدا ہوں اور داتا ہیں مِرے احمد کبیر</p>
<p>ذکر سے اُن کے عقیدے کو ہے مِلتی روشنیغوث کی آنکھوں کا تارا ہیں مِرے احمد کبیر</p>
<p>ہو اگر توصیفؔ اُن جیسا کوئی تو دیں مثالمانتا ہے دہر یکتا ہیں مِرے احمد کبیر</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر


