Hamari Aawaz

حقیقی نصب العین اور دُنیا طلبی

مضامین و مقالات ← مذہبی مضامین
📅 08-01-2021 👁 2 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
شائع کردہ: ہماری آواز badge

<p>تحریر: غلام مصطفٰی رضوینوری مشن مالیگاؤں</p>
<p>١٩٢٠ء میں عظیم مدبر اور مفکر پروفیسر سید سلیمان اشرف بہاری نے مسلمانوں کی مشرکین سے دوستی؛ اور مفاہمت و خود سپردگی کے مہیب اثرات پر تحریر فرمایا تھا:</p>
<p>"افسوس ہے مسلمانوں کی بدعقلی اور خام کاری پر۔۔۔ دُنیا طلبی ان پر ایسی چھائی کہ دین کی تباہی اپنے ہاتھوں سے کرنے لگے؛ اور اس کا احساس و شعور تک انھیں نہیں ہوتا کہ ہم کیا کر رہے ہیں.... مسلمانوں کا حقیقی نصب العین"دین و مذہب" اللہ تعالیٰ نے قرار دیا ہے؛ دُنیا ان کے پاس دین کی رونق اور مذہب کی خدمت کے لیے ہے... جب دین و مذہب ہی نہ رہا تو ملعون ہے وہ سلطنت جو ایمان کے عوض میں ملے؛ اور صدہا لعنت ہے اس حکومت پر جو اسلام بیچ کر خریدی جائے۔۔۔"</p>
<p>(الرشاد، از سید سلیمان اشرف بہاری، طبع ١٩٢٠ء، ص٢٠)</p>
<p>تبصرہ: تلمیذ و خلیفۂ اعلیٰ حضرت؛ پروفیسر مولانا سید سلیمان اشرف بہاری کے اس اقتباس سے چند باتیں معلوم ہوئیں:١- دُنیا کی طلب میں ہم دینی احکام سے غافل ہوئے جاتے ہیں… جب کہ ہمیں چاہیے تھا کہ اپنا سب کچھ دین سے وابستہ رکھتے…٢- ہمارے اکثر نقصانات ہماری غفلت کا ہی نتیجہ ہیں… جیسا کہ ہم نے نصب العین کو فراموش کر دیا… دین سے غافل ہو بیٹھے…٣- اپنی دُنیا دین کے استحکام کے لیے مختص کرتے تو معاشرہ بھی صالح بنتا… اور جاہ و منصب بھی مستحکم ہوتا… لیکن:جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی٤- فی الوقت جو حالات مسلمانانِ ہند کے ہیں؛…. وہ اپنی ہی کمائی کا نتیجہ ہیں… جن لوگوں نے قیادت کا دعویٰ کیا… پھر مشرکین سے سودا کر لیا… ان کی خوشنودی چاہی… ان کی منشا و مراد کے مطابق مسلمانوں میں ذہن سازی کی… آج اسی کے نتائج ہم مشاہدہ کر رہے ہیں…</p>
<p>وہ ١٩١٩ء میں سوراج کی باتیں کر رہے تھے... مسلم قیادت گاندھی کے چرنوں میں سرنگوں تھی... وہ ہندو یونیورسٹی بنارس کو مستحکم کر رہے تھے... نان کو آپریشن کی آندھی میں مدرسۂ عالیہ کلکتہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا نقصان کیا جا رہا تھا... وہ علم کے میدان میں ترقی کر رہے تھے... ادھر گلشنِ علم ویران کیے جا رہے تھے... وہ اقتدار پر براجمان ہو رہے تھے... ادھر مسلم قیادت زیر دَست تھی... پھر ایک صدی محنت کی گئی... اور ہندو راشٹر کی راہ ہموار کی گئی... آج مسلم آثار کی بربادی کی مہم جاری ہے... ہر اعتبار سے ہمارے آثار مٹائے اور کھرچے جا رہے ہیں... اپنے نصب العین کی طرف لوٹ آئیں... دین و مذہب اور شعائر اسلامی کی حفاظت و خدمت کو مطمح نظر بنائیں... یہی وقت کا تقاضا ہے... یہی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے...</p>
<p>اپنی ملت پہ قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کرخاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمیﷺ</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

badge Assistant Editor ★★★★★
ہ

ہماری آواز

📍 Faizabad

📰 4832 پوسٹ👁 18300 قارئین📊 3.8 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

سیرت حسینیؓ :حق پر استقامت اور کردارِ مومن کی معراج

دین کا کام اور دین پر چلنے کی حقیقت:قولِ امام ربانی کی روشنی میں ایک اصلاحی تجزیہ

دنيا كی حقیقت اور قرآنی مثالیں

مقبول ترین پوسٹس

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے!

👁 134 ویوز

حمد باری تعالیٰ

👁 101 ویوز

ایک مسلمان کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟

👁 95 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش

👁 79 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع

👁 79 ویوز