منقبت: یارفاعی یہ غم ہو تو کیا کروں
📅 07-01-2021
👁 2 قارئین
💬 0 تبصرے
🔁 0 شیئر
شائع کردہ:
ہماری آواز
<p>نتیجۂ فکر: سید شہباز اصدق</p>
<p>دل بسوئے صنم ہو تو میں کیا کروںسر مرا در پہ خم ہو تو میں کیا کروں</p>
<p>سوزِ دل چشمِ نم ہو تو میں کیا کروںیا رفاعی یہ غم ہو تو میں کیا کروں</p>
<p>یا رفاعی رفاعی رہے زیرِ لبمجھ پہ ان کا کرم ہو تو میں کیا کروں</p>
<p>ہے وظیفہ مرا یا رفاعی مدداب کسی کو الم ہو تو میں کیا کروں</p>
<p>مرقدِ شہ رفاعی ہے باغِ ارمپاس باغِ ارم ہو تو میں کیا کروں</p>
<p>حضرتِ شہ رفاعی مرے واسطےبوئے ابرِ کرم ہو تو میں کیا کروں</p>
<p>نامِ احمد رفاعی صدا کے لیےلوحِ دل پر رقم ہو تو میں کیا کروں</p>
<p>نام آیا یہ کس کا لبِ ناز پراب کرم دم بدم ہو تو میں کیا کروں</p>
<p>یا رفاعی ترے اصدقی کے لیےخوب تر جامِ جم ہو تو میں کیا کروں</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر


