نظم: کتاب ہستی
<p>از قلم: شیبا کوثربرہ بترہ آرہ (بہار)انڈیا</p>
<p>وقت سے کوئی شکوہ نہیں ہےکسی سے کچھ بھی گلہ نہیں ہےمیں خود آج اپنیکتابِ ہستی میں گم ہوںورق ورق پڑھ رہی ہوںکہیں انا ہے ،کہیں جفا ہےکہیں بے وفائی ،کہیں بے حیائیکہیں غر ور کا ہے کالا بادلکہیں مستی میں ہو رہے ہیں پاگلکہیں بے معنی گفتگو ہےبس یونہی ہا ہو ہےدلوں پر غفلت کے پر دے پڑے ہیںزعم یہ ہے کہ ہم بڑے ہیںگویا کہ بس ہم ہی ہم ہیںجو بھی ہیں وہ ہم سے کم ہیں۔۔۔!!خدایا رحم کریہ کیسی کتابِ ہستی نظر سے گزریکہیں بھی کوئی ا عمال نہیں ہے بہترتیرا حکم ہو پامال نہیں ہے بہترکرتی ہوں توبہ میں صدق دل سےایما ن میرا چھوٹا ہے تل سےایمان کو میرے مولیٰ بڑھا دےنفس نفس کو کلمہ پڑھا دےنہیں مجھ سے کوئی جفا ہو یاربنہ کوئی ہم سے خفا ہو یاربانا کو میری ہستی سے دور کر دےاپنی عطاعت پر سب کو مجبور کر دےدعا ؤں میں میرے تو تاثیر دے دےدلوں کو ایمان کی جاگیر دے دے ۔۔۔۔۔!!</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Senior Writer
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید

بیٹیوں کی عظمتوں کو پہچانوں

اسلام میں مسلم عورتوں کےلیے حجاب (پردہ) لازمی وضروری حصہ ہے



