غزل: بسمل کی طرح ہم کو سن بیس نے تڑپایا
<p>نتیجۂ فکر: محمدعثمان ندوینائب مہتمم دارالعلوم نورالاسلام جلپاپور</p>
<p>بسمل کی طرح ہم کو سن بیس نے تڑپایادکھ،دردوالم لایا ،اور رنج ومحن لایا</p>
<p>مزدور ہوئے بےگھرپیدل ہی چلےوہ گھرکھانےکوبھی ترسایا ،پینےکوبھی ترسایا</p>
<p>اندھیرہوئی دنیاسنسان ہوئیں راہیںپولیس کےڈنڈوں نے کتنوں کوہےگرمایا</p>
<p>مسجدمیں لگے تالے،مندرمیں لگی بندشبارش کی طرح تونےوہ ظلم وستم ڈھایا</p>
<p>اجڑےہیں مدارس بھی ،اسکول بھی اجڑے ہیںبچوں نےغلط رستےدنیامیں ہےاپنایا</p>
<p>این آرسی کاچکردردرکی لگی ٹھوکرشرطوں کوپڑھاجب ہی سراپنابھی چکرایا</p>
<p>بازارپڑے ہیں ٹھپ تاجر ہیں سبھی حیراںسامان ہوئے مہنگے بےموت ہی مروایا</p>
<p>سن بیس تیرادامن رنگیں ہے خونوں سےلنچنگ میں بہت تونے معصوم کوکٹوایا</p>
<p>دلی کی خنک راتوں ،یخ بستہ ہواؤں میںحق مانگنےکی خاطر بوڑھوں کونکلوایا</p>
<p>تاریخ بنی تیری اے جامعہ ملیہلاٹھی تیرے بچوں پرپولیس نے برسایا</p>
<p>اےبیس کروناکی لعنت ہےترےسرپردنیانےابھی تک بھی آرام نہیں پایا</p>
<p>سازش ہےبہت گہری دنیاکےلٹیروں کیپرتونےہمیں اپنےافکارہی سمجھایا</p>
<p>لڑنے کوپھر نکلے ہیں پنجاب اور ہریانہاس پل بھی کسانوں نے سکھ چین نہیں پایا</p>
<p>اک ٹیس ہے جوڑوں میں اوردردہےسینوں میںانسان کےلئےکتنی مشکل سی گھڑی لایا</p>
<p>نہ چین ملادن میں نہ رات ملی راحتہرمسئلہ آساں تونےبہت الجھایا</p>
<p>اللہ کےہاتھوں میں کنجی ہےزمانےکییہ رازبہت میں نےانسان کوہےسمجھایا</p>
<p>ہرسمت مرےمولی پھرامن واماں کردےسن بیس ترےعثماں کوراس نہیں آیا</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید

در شان حضور تاج الفقہا، مفتی اختر حسین علیمی دام ظلہ علینا

واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا



