غزل: وقت کا نور سفر غائب ہے کیوں
📅 26-12-2020
👁 2 قارئین
💬 0 تبصرے
🔁 0 شیئر
شائع کردہ:
ہماری آواز
<p>از: سید اولاد رسول قدسی مصباحینیویارک امریکہ</p>
<p>وقت کا نور سفر غائب ہے کیوںکٹ چکی ہے شب سحر غائب ہے کیوں</p>
<p>قریہ قریہ ہے خطیبوں کا ہجومپر خطابت کا اثر غائب ہے کیوں</p>
<p>رو رہی ہے میرے گھر کی اینٹ اینٹسب سلامت ہے ،حجر غائب ہے کیوں</p>
<p>جملہ اصناف سخن کی بزم میںسب ہیں شامل نثر پر غائب ہے کیوں</p>
<p>ہر طرف ماتم بپا ہے باغ میںگل تو ہیں لیکن ثمر غائب ہے کیوں</p>
<p>محو گردش ہے فلک پر یہ سوالچودہویں کی شب قمر غائب ہے کیوں</p>
<p>پوچھتا ہے ہر بشر سے خود بشرعہد رفتہ کا بشر غائب ہے کیوں</p>
<p>قدسیؔ ایسی ہے مسلط بے گھریگھر بھی ہے حیراں کہ گھر غائب ہے کیوں</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید

در شان حضور تاج الفقہا، مفتی اختر حسین علیمی دام ظلہ علینا

واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا



