پیغام! اب عمامہ تمارا اچھالا گیا
<p>رونقیں بھی گئیں سب اُجالا گیااور گھروں سے تمہیں پھر نکالا گیااب شریعت بھی محفوظ ہرگز نہیںاب عمامہ تمارا اچھالا گیا</p>
<p>مرثیہ قوم کا کب سناتے ہیں ہمخواب غفلت سے تم کو جگاتے ہیں ہماب یہ مردہ دلوں پر اثر کچھ کرےبات حالات کی بس بتاتے ہیں ہمپھر یہ کہہ کے زمانے سے رونا نہیںہاتھ سے اب تمارے نوالہ گیااب عمامہ تمارا اچھالا گیا</p>
<p>حکم پہلا ہے رب کا یہ اقرا پڑھوتم پڑھو تم پڑھو تم پڑھو تم پڑھودین کا علم بھی اور دنیا کا بھیگود سے گور تک تم پڑھو بس پڑھوحکم پہلا یہ رب کا نہ مانا گیاعلم کو سب گھروں سے نکالا گیااب عمامہ تمارا اچھالا گیا</p>
<p>بیچ کے برسوں سے تم تو کھاتے رہےعیش و عشرت میں سب کچھ لٹاتے رہےان زمینوں پہ دیکھو نہ اے صاحبوںبس انا کا مکاں تم بناتے رہےتم ہی ناسور ہو قوم کے رہبرووقف کا مال و زر نا سنبھالا گیااب عمامہ تمارا اچھالا گیا</p>
<p>ظالموں کے ہمیشہ رہے روبروامن و آماں تمہاری رہی جستجوخود کو مظلوم تم ہی سمجھنے لگےتم سدا سے وطن کی رہے آبروحق کی آواز خاموش کر دی گئیتم کو خیراتی ٹکڑوں میں پالا گیااب عمامہ تمارا اچھالا گیا</p>
<p>سب مدارس کی دیکھوں نا زینت گئیانجمن کی تمہاری بھی عزت گئیحال اوقاف کا بد سے بدتر ہواسب اداروں کی جیسے کہ عظمت گئیجاں کنی جیسی حالت میں اخبار ہےسب صحیفے گئے اور رسالہ گیااب عمامہ تمارا اچھالا گیا</p>
<p>یہ حجابوں طلاقوں میں الجھا دئےمسجدوں کے یہ جھگڑوں میں الجھا دئےمسلکوں کی یہ سازش میں جھونکے تمہیںتم کو آپس کے فتنوں میں الجھا دئےٹانگ کھینچا ہے تم نے فقط بھائی کااپنے کردار کا سب حوالہ گیااب عمامہ تمارا اچھالا گیا</p>
<p>رفتہ دفتہ یہ غدار کہنے لگےیہ برائے وطن بار کہنے لگےبزدلی نے تمہاری دیا حوصلہتم کو بے سود بےکار کہنے لگےتم سے باقی وطن کی تھی عزت مگرکھوٹے سکّوں میں تم کو تو ڈھالا گیااب عمامہ تمارا و اچھالا گیا</p>
<p>نتیجۂ فکر۔۔۔۔ شہاب حمزہ ۔۔۔۔۔8340349807</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر


