گستاخان نبیﷺ کو سخت سزا ملنی چاہیے
<p>تحریر: محمد مقصود عالم قادریاتردیناجپور مغربی بنگال</p>
<p>آج ملک عزیز ہندوستان میں سید المرسلین رحمة اللعٰلمین، وجہ تخلیق کائنات حضور اقدس ﷺ کی شان میں نازیبا الفاظ اور آپ علیہ السلام پر طرح طرح کے الزامات اور گستاخیاں کرکے ملک کے امن و سکون کو پامال کیا جا رہا ہے آئے دن کوئی نہ کوئی ملعون حضور علیہ السلام کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کرتا رہتا ہے تقریبا ایک سال پہلے ملعون نرسمہا نند سرسوتی نے حضور علیہ السلام کی شان میں گستاخیاں کی اور اپنے ساتھ حکومت کی حمایت کی وجہ سے ان کا یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے ،اور پھر حال ہی میں بی جے پی پارٹی کی ایک لیڈر ملعونہ نوپور شرما اور نوین کمار نے نبی علیہ السلام کی شان میں ایسے گندے الفاظ ادا کی جسے میں اپنے قلم سے لکھنا بھی مناسب نہیں سمجھتا اس گستاخی سے صرف ہندوستان کے مسلمانوں کے جذبات کو ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچا ہےہم حکومت سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ جہاں بے زبان جانوروں کے لیے بھی قانون بنایا گیا ہے کہ جب انہیں کوئی بلاوجہ تکلیف پہنچاۓ تو اس کے ساتھ سخت کاروائی کی جاتی ہے بہت سے ایسے واقعات بھی پیش آئے کہ جانوروں کو بلا وجہ تکلیف دینے کی وجہ سے بڑی شخصیتوں کو بھی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا،تو جن اشتعال انگیز بیانات سے تمام مسلمانوں کوقلبی تکلیف پہنچایا جاتا ہے ملک کی فضا کو خراب کیا جاتا ہے ان کے خلاف کیوں نہیں قانونی کاروائی کی جاتی؟ان کو سلاخوں کے پیچھے کیوں نہیں ڈالا جاتا؟لیکن افسوس حکومت ایسے لوگوں کو سزا دینے کے بجائے ان کے ساتھ قانونی کاروائی کے بجاۓ ان کو حکومت حفاظت کے لیے سکوریٹی تعینات کرتی ہے تاکہ وہ اسی طرح بھڑکاؤ بیانات دیتے رہے اور حکومت اپنی سیاست کی روٹی سیکھتی رہےاب ان لوگوں کیلئے اہانت رسول ﷺ کرکے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنا نہایت ہی آسان ہوگیا کیوں کہ بی جے پی حکومت ان کی حفاظت کیلئے تو سکوریٹی مہیا کرہی رہی ہےنوپور شرما اور نوین کمار کی گستاخی پر جب عرب ممالک قطر،کویت،دبئی،سعودی عربیہ وغیرہ ممالک نے شدت سے احتجاج کیا اور ہندوستان کے پروڈکٹ کا بھی بائیکاٹ کیا تو حکومت نے صرف دل بہلانے کیلئے ان دونوں کو اپنی پارٹی سے نکال دیاجن کی وجہ سے پورے ہندوستان میں جگہ جگہ دنگے فساد برپا ہوۓ آۓ دن احتجاج ہو رہے ہیں ناجانے کتنے سارے نقصانات ہوئے اتنے بڑے مجرموں کیلئے کیا یہ معمولی سزا کافی ہے؟ ہرگز نہیں،ہم حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ نوپور شرما،نوین کمار اور جو بھی نبی علیہ السلام کی شان میں ادنیٰ گستاخی کرے تعزیرات ہند کے تحت ان کو سخت ترین سزا دی جائے تاکہ دوبارہ کوئ آقا علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرنے کی جرأت نہ کرےاور مسلم قیادتوں سے بھی یہی اپیل ہے کہ آپ کے پاس سیاسی طاقت ہے تو محض اپنی ذات کیلۓ وہ طاقت استعمال نہ کرے بلکہ اپنے نبی ﷺکی ناموس کی حفاظت کے لئے اپنی طاقت کا استعمال کیجئے کیونکہ حضور علیہ السلام کی ناموس اور محبت تمام اشیاء سے معزز و محترم اور اہم ہے بلکہ ڈاکٹر اقبال کی زبان میں یوں کہیئے</p>
<p>محمد کی محبت دین حق کی شرط اول ہےہو اگر خامی اسی میں تو سب کچھ نامکمل ہے</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید

سیرت حسینیؓ :حق پر استقامت اور کردارِ مومن کی معراج

دین کا کام اور دین پر چلنے کی حقیقت:قولِ امام ربانی کی روشنی میں ایک اصلاحی تجزیہ



