نکاح محبوب اور جہیز معیوب کیوں؟
<p>از قلم: خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت موبائل 7247863786</p>
<p>اسلام میں مرد و عورت کے لیے جنسی لذت کا حصول صرف نکاح میں ہے اس شریفانہ طریقہ کے علاوہ اور کسی صورت کو جائز قرار نہیں دیا گیااس کے لیے پہلے رشتہ کی تلاش کی جاتی ہے پھر مزید بات چیت کرکے اسے آگے بڑھایا جاتا ہےآج کل بہت سی جگہ دیکھنے اور سننے میں آیا ہے کہ لڑکے والے جو رشتہ تلاش کرتے ہیں تو پہلے مال و دولت کو دیکھتے ہیںبعض لوگ لڑکی کے حسن وجمال کو دیکھتے ہیں بعض لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ اس کا خاندان زیادہ بڑا ہونا چاہیے تاکہ زیادہ آدمی ہوں گے تو ہماری زیادہ مدد ہو سکے گی اس طرح کی سوچ اور خیالات رکھنے والوں کو مندرجہ ذیل حدیثیں ذہن میں رکھنا چاہیےرشتے کی تلاش کے متعلق پیارے آقا حضرت محمد مصطفی ﷺ کا ارشاد ہے" تنکح المراۃ لاربع ؛لما لھا؛ ولحسبھا؛ ولجمالھا؛ ولدینھا؛فاظفربذات الدین تربت یداک" (بخاری حدیث 5090؛مسلم حدیث 1466)عورت سے نکاح چار چیزوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے؛( ١)اس کے مال کی وجہ سے؛(٢) اس کے خاندانی شرف کی وجہ سے؛(٣) اور اس کی خوبصورتی کی وجہ سے (٤)اور اس کی دین داری کی وجہ سے؛ تو دیندار عورت سے نکاح کرکے کامیابی حاصل کر ؛ اگر ایسا نہ کرے تو تیرے ہاتھ میں ندامت لگےاور سنن ابن ماجہ شریف میں اس طرح ہے "لا تزوجوا النساء لحسنھن ؛ فعسی حسنھن أن یردیھن؛ ولاتزوجوھن لأموالھن ؛فعسی أموالھن أن تطغیھن ؛ ولکن تزوجوھن علی الدین "(سنن ابن ماجہ حدیث 1859)تم عورتوں سے ان کے حسن کی وجہ سے نکاح مت کرو ؛ کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ان کا حسن انہیں تکبر میں مبتلا کرکے ہلاک کر دے ؛ اور ان سے مال و دولت کی بنا پر بھی نکاح مت کرو ؛ کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ان کا مال و دولت انہیں سرکش بنا دے ؛ لیکن تم دینداری کی بنا پر ان سے نکاح کروشارحین فرماتے ہیںیہ حدیث لوگوں کے حال کے مطابق پیارےآقا حضرت محمد مصطفی ﷺ نے فرمائی ہے؛ کہ لوگ شادی سے پہلے ان چیزوں کو دیکھتے ہیں ؛ لوگوں کی نظر سب سے پہلے کسی کے مال پر لٹکی ہوتی ہے؛ کچھ لوگ اونچا اور بڑا خاندان دیکھتے ہیں؛ کچھ لوگ خوبصورتی کے پیچھے پڑے ہوتے ہیں ؛لیکن پہلی چیز لڑکی کے اندر دینداری دیکھنی چاہیے؛ جو آج کے دور میں بہت کم پایا جاتا ہے ؛پھر لڑکی کے اندر دینداری تلاش کرنے سے پہلے خود اپنے لڑکے کو بھی دیکھنا چاہیے کہ وہ کتنا بڑا دیندار ہے کیونکہ قرآن مجید میں اللہ تعالی فرماتا ہے " والطیبات للطیبین والطیبون للطیبات"( سورۃ النور آیت 26 ) پاک دامن عورتیں پاک دامن مردوں کے لیے ہیں اور پاک دامن مرد پاک دامن عورتوں کے لیے ہیںاسی وجہ سے ہر معاشرے میں شادی سے پہلے ہر مرد اور عورت کو جنسی لحاظ سے پاک دامن رہنے کی تلقین کی جاتی ہےلیکن مغربی معاشرہ اور کچھ دیگر غیر ترقی یافتہ معاشرے مرد و عورت کو جنسی اختلاط کی اجازت دیتے ہیں اور ان میں شادی سے پہلے منگیتر کے ساتھ وقت اور راتیں گزارنا عام بات ہےمذہب اسلام میں یہ سب ناجائز وحرام ہیںاور مذہب اسلام اس بات کی بھی اجازت نہیں دیتا ہے کی شادی سے پہلے لڑکی والوں سے جہیز کے لیے کسی چیز کی مانگ کی جائے "؛لڑکی والوں سے کسی خاص چیز کا مطالبہ یا من مانی فرمائش اور مالی واقتصادی منافع کے حصول کی شرط کو جہیز کے نام سے جانتے ہیںمروّجہ جہیز ایک لعنت ہے؛ اس کے باعث خاندان تباہ و برباد ہو رہے ہیں؛ آپس میں نفرت؛ دشمنی اور باہمی عداوت کی بنیادیں پڑ رہی ہیں مال و دولت کی اس بڑی ہوئی حر ص اور لالچ کی وجہ سے اس مسلم معاشرے کے لئے اس ماحول میں جس میں دینی تربیت و تعلیم کی کمی ہے اس میں شادی جیسے آسان اور نیک کام کو دشوار بنا دیا ہےدراصل آج کا معاشرہ لالچی اور حریص بن گیا ہے جس کا خمیازہ حوا کی بیٹی کو بھی بھگتناپڑ رہا ہےصنف نازک کو خود کشی کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے کیوں کہ والدین کے پاس جہیز میں دینے کے لئے مال و اسباب نہیں ہیں آج مسلم معاشرے میں مروّجہ جہیز کا جواز نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے قرآن مجید میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے "اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق مت کھاؤ" (سورۃ النساء آیت 29 )اسلام نے شادی بیاہ کے مسئلہ کو بڑی سادگی سے انجام دینے کی ترغیب دی ہے اور شادی کے لئے دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول اور مہر ضروری قرار دیا ہے باقی چیزوں کو نہیںمہر کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے " اور عورتوں کے مہر خوش دلی کے ساتھ (فرض جانتے ہوئے )ادا کرو ؛البتہ اگر وہ خود اپنی خوشی سے مہر کا کوئی حصہ تمہیں دے دیں تو اسے مزے سے کھا سکتے ہو" (سورۃ النساء آیت 4 )خلاصہ یہ ہے کہ شادی کے لیے رشتہ تلاش کرنے جاؤ تو لڑکی کی دینداری؛ تقویٰ ؛پرہیزگاری دیکھیںبہتر اور مناسب یہ ہے کہ غریب کی بیٹی کو تلاش کریں اور شادیوں کو آسان بنائیں؛ غریبوں کی بہن ؛بیٹیوں کے رشتے کریںاور دوسروں کرنے کی ترغیب دلائیںجہیز جیسی لعنت سے خود بھی بچیں دوسروں کو بھی بچائیںاللہ تعالی ہماری زبانوں میں تاثیر پیدا فرمائے آمین ثم آمین یارب العالمین</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید

نوجوان نسل میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی: اسباب و علاج

مسلمان، مسلمانوں سے دور کیوں؟ایک لمحۂ فکریہ!



