غزل: دل کہیں اور فدا کیا کرنا
📅 23-12-2020
👁 2 قارئین
💬 0 تبصرے
🔁 0 شیئر
شائع کردہ:
ہماری آواز
<p>خیال آرائی: فیضان علی فیضان، پاکستان</p>
<p>اب تجھے خود سے جدا کیا کرنادل کہیں اور فدا کیا کرنا</p>
<p>اک تمہیں سے یہ دل لگایا ہےسوچ کے اچھا برا کیا کرنا</p>
<p>بس یہی بات میں کہوں تم سےاب وفا ہو یا جفا کیا کرنا</p>
<p>کیوں ہو تم دور دور اب مجھ سےاب ہو میرے تو حیا کیا کرنا</p>
<p>یونہی کرتے رقیب ہیں سارےجا کے ان سے گلہ ہے کیا کرنا</p>
<p>زندگی میں وفا نہیں ملتیطول عمری کی دعا کیا کرنا</p>
<p>اپنے فیضان کا دل بسا لو توہجرتیں پھر یہاں سے کیا کرنا</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید

در شان حضور تاج الفقہا، مفتی اختر حسین علیمی دام ظلہ علینا

واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا



