منقبت: وادی رضا کی کوہ ہمالہ رضا کا ہے
<p>جلوہ ہے، نور ہے کہ سراپا رضا کا ہےتصویرِ سنیت ہے کہ چہرہ رضا کا ہے</p>
<p>وادی رضا کی ، کوہِ ہمالہ رضا کا ہےجس سمت دیکھیے وہ علاقہ رضا کا ہے</p>
<p>دستار آ رہی ہے زمیں پر جو سر اٹھےکتنا بلند آج ، پھریرا رضا کا ہے</p>
<p>کس کی مجال ہے کہ نظر بھی ملا سکےدربار مصطفٰی میں ٹھکانہ رضا کا ہے</p>
<p>الفاظ بہ رہے ہیں دلیلوں کی دھار پرچلتا ہوا قلم ہے کہ دھارا رضا کا ہے</p>
<p>چھوتا ہے آسمان کو مینار عزم کایعنی اٹل پہاڑ، ارادہ رضا کا ہے</p>
<p>دریا فصاحتوں کے رواں شاعری میں ہےیہ سہلِ ممتنع ہے کہ لہجہ رضا کا ہے</p>
<p>جو اس نے لکھ دیا ہے سند ہے وہ دین میںاہل قلم کی آبرو ، نقطہ رضا کا ہے</p>
<p>اگلوں نے بھی لکھا ہے بہت دین پر مگرجو کچھ ہے اس صدی میں وہ تنہا رضا ہے</p>
<p>اس دور پرفتن میں نذرؔ خوش عقیدگیسرکار کا کرم ہے، وسیلہ رضا ہے</p>
<p>نوٹ: یہ زباں زد اور شاہ کار منقبت جناب پروفیسر جمیل نذرؔ مرحوم نے 1982ء میں لکھی تھی۔</p>
<p>پیش کش: انصار احمد مصباحی 9860664476</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید

سیرتِ حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ

حضرت علامہ مولانا مفتی تقدس علی خان رضوی رحم ة اللہ تعالیٰ علیہ



