منقبت: زیست میں اس کی نمایاں ہے ادائے صابر
<p>نتیجہ فکر: محمد اشرفؔ رضا قادریمدیر اعلی سہ ماہی امین شریعت</p>
<p>لوحِ دل پر ہے رقم جس کے ولائے صابرزیست میں اس کی نمایاں ہے ادائے صابر</p>
<p>ان کے الطاف و عنایات کی کچھ حد ہی نہیںموج زن رہتی ہے ہر وقت عطائے صابر</p>
<p>خود رہے بھوکے، غریبوں کو کھلایا برسوںدیکھ لو منکرو تم صبر و رضائے صابر</p>
<p>صبرِ صابر کا تجھے واسطہ دیتا ہوں مجھے’’دولتِ صبر‘‘ عطا کر اے خدائے صابر</p>
<p>تیرے افکار و تخیل میں شباب آئے گاشوق سے کرتے رہو مدح و ثنائے صابر</p>
<p>دامنِ دل مرا کھِنچنے لگا صابر کی طرفکتنی پُر کیف و مؤثر ہے نوائے صابر</p>
<p>جسمِ مردہ میں پلٹ آتے ہیں آثارِ حیاتکتنی جاں بخش ہے تریاق و دوائے صابر</p>
<p>وہ نہ دنیا کا رہے اور نہ وہ دیں کا رہےخنجرِ قہر و غضب جس پہ چلائے صابر</p>
<p>جھولیاں بھرتی ہیں منگتوں کی سخی کے در پرہاتھ خالی نہیں جاتے ہیں گدائے صابر</p>
<p>گرمیِ حشر کی کچھ فکر نہیں ہے اشرفؔحشر میں ہم کو چھپا لے گی ردائے صابر</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید

منقبت حضور احمد مشہود رضا قادری رضوی حشمتی علیہ الرحمہ ڈوکم شریف

حضور حافظِ ملت کا سفرِ حیات



