Hamari Aawaz

لباسِ نیم عریاں کی تو شیدائی تو ہے لیکن

متفرقات
📅 23-03-2021 👁 2 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
شائع کردہ: ہماری آواز badge

<p>تحریر: ساجد محمود شیخ، میراروڈ، تھانے مہاراشٹرا</p>
<p>مکرمیاتراکھنڈ کے نئے وزیرِِاعلٰی تیرت سنگھ راوت کے اس بیان پر واویلا شروع ہوگیا ہے،جس میں انہوں نے لڑکیوں کی ریپیڈ جنس پینٹ یعنی پھٹی ہوئی جنس پینٹ پر اعتراض کیا ہے ۔بہت سے لوگ سوشل میڈیا پر ان کے بیان پر اعتراض کر رہے ہیں،مگر میرے خیال میں یہ غیر ضروری ہے ۔ پھٹی ہوئی جنس پہننا ایک فیشن ہے جس میں لڑکے اور لڑکیاں اچھی خاصی جنس کو جگہ جگہ سے پھاڑ کر پہنتے ہیں ۔ پھٹی ہوئی جنس پہننے سے لباس کے تقاضے پورے نہیں ہوتے ہیں۔ اس سے جسم دکھائی دیتا ہے ۔ ہم لباس اس لئے پہنتے ہیں تاکہ ہمارا جسم چھپارہے۔اگر لباس پھٹا ہوگا تو اسے پہننے کا کیا فائدہ۔ عورتوں کو اپنا جسم ڈھانک کر رکھنا چاہیے۔ ایسے فیشن سے بے حیائی پھیلتی ہے۔ یہ مشرقی روایات کے کے خلاف ہے ۔ آج سماج کے تعلیم یافتہ لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان کو اپنے جسم کا کوئی حصہ کھول کھول دینے میں باک نہیں ہے۔ ان کے ہاں لباس محض زینت کے لئے ہے،ستر پوشی کے لئے نہیں ہے ،جبکہ لباس کا مقصد زینت سے زیادہ ستر پوشی ہے ۔ عریانی ایک ایسی ناشائستگی ہے جس کو کسی حال میں بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ ابو لمجاہد زاہد رح کا یہ شعر پیشِ خدمت ہے۔لباسِ نیم عریاں کی تو شیدائی تو ہے لیکنمجھے یہ شرم و غیرت کا کفن محسوس ہوتا ہے</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

badge Assistant Editor ★★★★★
ہ

ہماری آواز

📍 Faizabad

📰 4832 پوسٹ👁 19989 قارئین📊 4.1 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

وجوہ اعراب کے اعتبار سے اسم متمکن کی جملہ اقسام

چالیس مختصر اور چھوٹی حدیثیں

مسکرائیے" مولی علی" کے جواب پر

مقبول ترین پوسٹس

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے!

👁 136 ویوز

حمد باری تعالیٰ

👁 103 ویوز

ایک مسلمان کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟

👁 96 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش

👁 88 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع

👁 80 ویوز