غزل: پتھر کو دل کا حال سنانا فضول ہے
📅 16-12-2020
👁 2 قارئین
💬 0 تبصرے
🔁 0 شیئر
شائع کردہ:
ہماری آواز
<p>خیال آرائی: فیضان علی فیضان، پاکستان</p>
<p>غیروں کے در پہ مانگنے جانا فضول ہےپتھر کو دل کا حال سنانا فضول ہے</p>
<p>جو بات سن کے کان سے فوراً نکال دیںایسوں کو اچھی بات بتانا فضول ہے</p>
<p>دولت ہے زیادہ خرچ غریبوں پہ کیجیےشادی میں یوں ہی پیسے اڑانا فضول ہے</p>
<p>سیدھا نہیں وہ ہوگا کرو لاکھ کوششیںکتے کی دم کو سیدھا ہی کرنا فضول ہے</p>
<p>نادان ہے تو وقت کی کرتا نہیں ہے قدردن رات تیرا فون چلانا فضول ہے</p>
<p>عزت کی دھجیاں جو اڑاتے ہوں بارہاایسوں کے پاس آپ کا جانا فضول ہے</p>
<p>اس سے نشانہ آپ کا چوکے کا بارہااندھیرے میں یوں چلانا فضول ہے</p>
<p>رونے سے چیز ملتی ہے واپس نہیں کبھیفیضان یوں اشک تیرا بہانا فضول ہے</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید

در شان حضور تاج الفقہا، مفتی اختر حسین علیمی دام ظلہ علینا

واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا



