جہیز کے لالچی
<p>عائشہ اور اُس جیسی مظلوم بیٹیوں کے درد و غم پر بیتاب دل کے آنسو،اور لالچی و ظالم شوہروں کی مذمت</p>
<p>نتیجۂ فکر: سلمان رضا فریدی مصباحی</p>
<p>سمجھ لو اپنی خود داری کے وہ مَرگھٹ پہ رہتا ہےکٹورا لے کے جو سُسرال کی چوکھٹ پہ رہتا ہے</p>
<p>سنو ! لالچ کے لب دریاؤں میں بھی رہتے ہیں پیاسےقناعت کا قدم خشکی میں بھی پنگھٹ پہ رہتا ہے</p>
<p>ہے بیوی کی محبت اور وفا ہی راحتِ ہستینہیں تو آدمی بس درد کی کروٹ پہ رہتا ہے</p>
<p>تری بیٹی ، بہن ، پر بھی جفائیں ہوں تو کیسا ہوسگِ دولت بتا ! کیوں اِتنی غُرّاہٹ پہ رہتا ہے</p>
<p>سَتائ جاتی ہیں جب بیٹیاں سسرال میں اپنیجگر ماں باپ کا ، دروازے کی آہٹ پہ رہتا ہے</p>
<p>جہیز ایسی وبا ہے جس سے پھیلے ہیں کئ فتنےسماج اپنا ، اِسی سے وقت کی تلچھٹ پہ رہتا ہے</p>
<p>ہے جن ماں باپ کے گھر عائشہ سی غمزدہ بیٹیتو آنسو نقش ، اُن کے ماتھے کی سَلوَٹ پہ رہتا ہے</p>
<p>ستاتے ہیں جو اپنی بیویوں کو، اہلِ خانہ کوفریدی کا قلم ایسوں سے جَھلّاہٹ پہ رہتا ہے</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید

در شان حضور تاج الفقہا، مفتی اختر حسین علیمی دام ظلہ علینا

واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا



