Hamari Aawaz

یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے

مضامین و مقالات ← مذہبی مضامین
📅 28-02-2021 👁 2 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
شائع کردہ: ہماری آواز badge

<p>ازقلم: پٹیل عبدالرحمٰن مصباحی، گجرات</p>
<p>جب تک انسان دین کی تقلید کے مرحلے میں تھا تب تک وہ یک جہتی تقلید پر قانع تھا، یعنی وہ بس دین مان لیتا تھا؛ باقی سیاست، معیشت اور معاشرت کا تعیّن خود دین ہی اس کے لیے کر دیتا تھا. نتیجتاً ایک سجدہ ہزار سجدوں سے نجات دلاتا تھا. مگر اب جدید دور میں دین کو خیراباد کہنے کے بعد انسانی سماج ہمہ جہت تقليد کا خو گر ہو گیا ہے. اب اسے پہلے فرائڈ کا کلمہ پڑھ کر ذہنیت ٹھیک کرنی پڑتی ہے، پھر کارل مارکس صاحب سے رزق کی تقسیم کا فارمولا لینا پڑتا ہے، اس کے بعد سیاست میں داخلے کے لیے روسو کے زیر اہتمام تعمیر ہونے والے جمہوریت کے مندر میں سجدہ ریز ہونا پڑتا ہے. اور اس سب کے بعد روشن خیالی کے پیدا کیے ہوئے جدید خرافاتی سماج میں اپنی وجود کی بقا کے لیے مسلسل زَر، زَن اور زمین کی پرستش کرنی پڑتی ہے. غلامی در غلامی کے اس چکر میں پڑنے سے کیا یہ آسان نہیں کہ ایک کی بندگی قبول کر کے؛ ہر ایک کی غلامی سے آزادی حاصل کر لی جائے. بھلا بتاؤ تو! ایک خیالی آزادی کے لیے اتنی ساری عملی غلامیوں پر راضی ہو جانا کہاں کی عقلمندی ہے؟ دانشوری تو یہ ہے کہ ایک بندگی کے بندھن میں بندھ کر دیگر تمام بندشوں سے نجات حاصل کر لی جائے۔</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

badge Assistant Editor ★★★★★
ہ

ہماری آواز

📍 Faizabad

📰 4832 پوسٹ👁 19964 قارئین📊 4.1 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

سیرت حسینیؓ :حق پر استقامت اور کردارِ مومن کی معراج

دین کا کام اور دین پر چلنے کی حقیقت:قولِ امام ربانی کی روشنی میں ایک اصلاحی تجزیہ

دنيا كی حقیقت اور قرآنی مثالیں

مقبول ترین پوسٹس

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے!

👁 136 ویوز

حمد باری تعالیٰ

👁 103 ویوز

ایک مسلمان کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟

👁 96 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش

👁 88 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع

👁 80 ویوز