رشوت جائز یا ناجائز؟
<p>رشوت کا عدم جواز نصوص قطعیہ سے ثابت کریں نیز اس کے جواز کی صورت ارشاد فرمائیں!</p>
<p>سائل ثقلین رضامظفر پور بہار</p>
<p>باللہ التوفیقرشوت دینا یا لینا ایک ایسا فعل قبیح ہے جس کی مذمت میں آیات قرآنیہ و احادیث مبارکہ بکثرت ناطق ہیںرشوت دینے اور لینے والے دونوں ہی پر لعنت فرمائی گئی ہےجیسا کہ سورة البقرہ آیت188 پر ہے،ولا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطلو وتدلوا بھا الی الحکام لتاکلوا فریقا من اموال الناس بالاثم و انتم تعلمونترجمہ اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاو اور نہ حاکموں کے پاس اس کا مقدمہ اس لیے پہنچاو کہ لوگوں کا کچھ مال ناجائز طور پر کھالو جان بوجھ کر،اس آیت مبارکہ میں باطل طور پر کسی کا مال کھانا حرام فرمایا گیا خواہ لوٹ کر یا چھین کر یا چوری سے یا جوئے سے یا حرام تماشوں یا حراموں کاموں یا حرام چیزوں کے بدلے یا رشوت یا جھوٹی گواہی یا چغل خوری سے یہ سب ممنوع و ناجائز و حرام ہے،فائدہ کے لیے کسی پر مقدمہ درج کرنا اس کو حکام تک لے جانا ناجائز و حرام ہے،اسی طرح اپنے فائدے کی غرض سے دوسروں کو ضرر پہنچانے کے لیے حکام پر اثر ڈالنا رشوتیں دینا حرام ہے اور حکام کے لیے لینا بھی ناجائز ہے،اسی رشوت لینے اور دینے سے متعلق اللہ پاک نے یہودیوں کی مذمت فرمائی سورة المائدہ آیت42سمعون للکذب اکلون للسحت(یہود کے حکام) بڑے جھوٹ سننے والے بڑے حرام خور ہیں،جو رشوتیں لے کر حرام کو حلال کرتے اور احکام شرع کو بدل دیتے ہیں،لیکن جہاں ضرورت اصلیہ ہو وہاں رشوت دینا جائز ہےجیسا حضرت انس رضی اللہ عنہ جس وقت آپ حبشہ میں تھے جان چھڑانے کے لیے دو دینار دیئے اور فرمایاإن الاثم علی القابض دون الدافعگناہ لینے والے پر ہے نہ کہ دینے والے پرخلاصہ کلام یہ ہے کہ رشوت لینا اور دینا قطعا ناجائز ہے لیکن حالت اضطراری و ظلم و ضرر کو دفع کرنے اور جان بچانے کے لیے علما نے رشوت کو جائز قرار دیا ہےإن كان صوابا فمن اللہ وإن كان خطاء فمنی و من الشیطان</p>
<p>کتبہغلام وارث شاہدی عبیدی پورنوی(بہار)</p>
<p>الجواب صحیحفقیر محمد شہروز عالم اکرمی عفی عنہ کلکتہ</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر


