Hamari Aawaz

ویلنٹائن ڈے: دنیاے محبت کا ایک بد ترین فسانہ!

مضامین و مقالات ← اصلاح معاشرہ
📅 11-02-2021 👁 2 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
شائع کردہ: ہماری آواز badge

<p>تحریر: شاہ خالد مصباحی، سدھارتھ نگر</p>
<p>زمانے کو جب سے ایک موسوم ترقیاتی ڈھانچے سے سنوارا جانے لگا تب سے نت نئے طریقے سے بے راہ رویاں ، ضلالت ، فحاشی و عریانیت کے ایک بدترین باب کا تاریخ انسانی میں انضمام ہوتا ہوا چلا جارہا ہے۔</p>
<p>ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شرافت و انسانیت اور شرم و حیا ایک آن تک قائم رہی ۔۔۔ پھر بے حیائی و بے شرمی کا نقشہ جو شہد چٹا کر کھینچا جانے لگا/ اور جا رہا ہے۔۔ تاریخ صداقت کو اس پر ملال! اور حواس شرفاء اس پر ماتم کناں ہیں ۔برسوں سے حقیقت انسانی پر بلحاظ قیل و قال بات کریں تو ذات انسان کا ، ہمیشہ سے محبت و مودت کی طرف ننانوے فیصد رجحان قائم رہا ہے صرف ایک فیصد باعتبار نیچر نفرت کے سوداگری ٹیلے کا لاج ، کچھ افراد رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن بعض مقامات پر یہ بھی اپنے اصل کی طرف مرجع ہے جیسے کہ شاعر بیان کرتا ہے:محبت کرنا فطرت ہے ، میرا اظہار کیسے ہوکبھی نفرت کے پردے میں محبت کا دکھا دینا</p>
<p>یہاں تک تو بات مسلم ہے لیکن پھر آخر ایسی کون سی وجہیں انسانی زندگیوں کے مابین قائم ہوئیں کہ محبت ، مقصد و بے حیائی کے سفید چادر پر قائم رہنے لگی ۔۔۔۔اور ایک آواز اٹھی کہ محبت جھوٹ ہے جس نے محبوبوں کی داستان محبت کو داغدار کیا ۔اور یہ سچ بھی ہے کہ عزت کی سر عام نیلامی کو محبت کی تعبیر بتائے جانے لگی ، حالات بے ڈھنگی کو مجنوں کے با اصول و ڈھنگ ، تصدیق محبت پر زنگ چڑھانے لگا ۔۔۔۔۔اور آج معاملہ یہاں تک پہونچ گیا کہ اظہار محبت کرنا ، زندگی کی بربادی ، عزت و ناموس کا تارہ تارہ کرنا اور ایک پرسکون لمحات زندگی کو زندیق نما مجروح حال دل فرد کے مماثل بنانا ہے۔</p>
<p>آخر محبت کس چیز کا نام ہے ، اور کیا ہے؟</p>
<p>سچ کہیں تو محبت ایک انسان کا دوسرے انسان کے ساتھ کھڑا رہنے، ایک دوسرے کو سمجھنے اور ایک دوسرے کی تکلیفوں کو آسودگیوں میں بدل دینے یا بدلنے کی کوشش کا نام ہے۔ جس سے فطرت کے لستگے برقرار رہیں اور خوشیوں کی رمز میں اضافہ ہو ، جس سے زندگی جینے میں لطف پیدا ہو۔</p>
<p>بالآخر لکھنے والوں نے یہاں تک لکھا کہ محبت زندگی کا جزو لازم ہے۔ محبت وہ جذبہ ہے جو خالص ہوتا جس میں کذب ، دروغ گوئی ، دھوکہ دھڑی نہیں ہوتی ۔لیکن عوامی طور پر جو سننے کو ملتا ہے کہ وہ فلاں سے سچی محبت نہیں کرتا اس کی محبت دکھاوا ہے۔ اور اس سوچ نے ضرور عام آدمی کے ذہن کو بڑی حد تک متاثر کیا ہے کہ محبت سچی بھی ہوتی ہے اور جھوٹی بھی!احساسات و ادارک جھوٹ ثابت ہوئے ، جب محبت کا مطلب صرف جنس مخالف سے عشق کا دعویٰ یا اس کے ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھانے والے ماحول سے ہونے لگی۔میں ایک بار پھر حالات کے بدلتے رخ کے تئیں یہ عرض گزار ہوں کہ محبت فلموں یا ڈراموں کے جذباتی ڈائیلاگز کو دہرانے کا نام نہیں ہے۔ محبت تو احساس کا نام ہے، حوصلہ دینے کا نام ہے۔ محبت محبوب اور محب کے درمیان ایسا تعلق ہے جو دونوں فریقین کو جینے کاحوصلہ بخشتا ہے اور اعتماد فراہم کرتا ہے۔اور واضح رہے کہ محبت کوئی عام چیز نہیں ہے جو موسیقیوں کے بیچ ناچنے والے ان بادہ پرستوں کو حاصل ہو جائے جنہوں نے طوائفوں کے کوٹھوں کا نام بدل کر شرافت خانہ رکھ لیا اور اپنے آپ کو شریف النسل گردوانے لگے۔۔۔۔۔مخصوص دِلوں کو عِشق کہ الہام ہوتے ہيںمحبت معجزه ہے اور معجزے کب عام ہوتے ہيں</p>
<p>البتہ یہ نئی چیزوں کا زمانہ ہے ۔ نئے جوتے ، نئے کرتے ، نئے قانون، نئے جرائم ، نئی اظہار محبت کا طریقہ اور ان نئے دو شخص کے مابین جو الفت کی نئی راہ ، رانجھا کے باہوں میں صرف تلاش کرتے ہیں ۔</p>
<p>خوابگاہوں سے جدا اپنے خوابیدہ تقدیر پر خود ترس سماج سے لاکھ پھنٹے جوتے کھانے والے ، صد بار آواز ڈھڑاھٹ پیش کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ دھوکہ ہوا ، لیکن افسوس ان کی محبت نے تاریخ میں انقلابی کرن کھینچ نہیں سکی ۔۔۔ شاید ان شکوہ پرست لوگوں کا ادراک ایسی محبت میں بدلی ہوئی تھی جسے خریدی جاسکتی ہے۔ جیسا کہ ویلنٹائن ڈے سے مرسوم محبت ہماری نظروں کے سامنے ہے ۔</p>
<p>موجودہ محبت ہی طرح ویلنٹائن کی بھی محبت تھی، تبھی تو مارکیٹ میں بکنے والی ایک معمولی شئ کا نام محبت ہوگیا ۔ اور اب اس ڈے کا اتنا اثر پڑا کہ اتنا ترقی کیا کہ ایک لفظ آگے کہ محبت بس کلیدی لفظ کی طرح ہوگیا ہے. جس کی وجہ سے اس بے حسی کا امکان خود شک ، گمراہی کا گہرا خوف تو ضرور پیدا کررہا ہے ، لیکن اس نفس پرست دور میں اس معمولی سودے کا سوداگر کون نفس پرست نا بنے!!</p>
<p>اتنے جلدی اتنی ترقی کیسے حاصل کی!</p>
<p>یقینا یہ بے حد افسوسناک مرحلہ ہے کہ ایک معاشرہ اتنے جلدی برائیوں کا اثر کیوں کر قبول کرتے ہوئے چلا جارہا ہے ؟!</p>
<p>اس کا جواب ہمارے ہی ارد گرد کا ما حول دے رہا ہے کہ اسی محلے میں ، جس میں آپ رہتے ہیں نظر ڈالیں کہ دس سال قبل کی پاکیزگی کا کیا عالم تھا اور اب کیا ہے؟تو اس کی حقیقت سامنے آجائےگی۔کچھ جھلک :جیسے مارکیٹنگ کی شو بازی ، غیر محرم کو اچھا دکھنے والی وہ قیمتی میکپ ، بازاروں میں مرد کے بالمقابل کھڑی ہونے والی وہ عورت ، یقینا شہوت کے ابھارنے اور مغربی منصوبوں پر عاریتا کام کرنے والی ہے اور حسین خوبصورت بدن پر تنگ باریک لباس ، ہو بہو اس پر فاخر!بطور تفہیم یورپ کی ایک مثال پیش ہے کہ2019/ میں بی بی سی نیوز ، جرمنی سے شائع شدہ ایک رپورٹ ، جس میں عورتوں کو روزگار دینے کے سلسلے میں ایک حیرت انگیز بات لکھی تھی ، کہ عورت کی جسم کا ساخت عربین طرز پر ہو ۔ تاکہ ہمارے سوداگروں کا مزاج اس کی طرف راغب ہوں۔ایک لمحہ تک میں یہ سوچتا رہا کہ عربین ساخت کس طرز و طریقے سے ہوتا ہے ، پہلے مرحلے میں تو خوشی ہوئی کہ عربی لفظ ہے ، تو ضرور شریعت کی رو روایت کے پاسداری کی اس عورت کے کردار و بیاں میں دیکھا جائےگا اور پرکھا جائےگا کہ یہ عورت دائرہ اسلام میں رہ کر کس طریقے سے معاشرے کو ترقی کا ایک الگ رنگ دیتی ہے۔لیکن اکتساب علم کے بعد اس کے برخلاف معلومات حاصل ہونے پر خود اپنی پاکیزہ سوچ و فکر پر شرمندہ ہوا ، کہ مغرب پرست ذہنوں نے کس قدر ہماری ہی ناموں ، ملکوں اور القابات سے جہاں ہماری تہذیبوں کو شرمسار کررہے ہیں وہی ناموں کے سننے کے متعلق غیروں قوموں کے ذہن میں جو پاکیزگی رائے ہمارے متعلق قائم ہوتی ہے اس کو بھی غلاظت کی بھٹی میں جھونکنا چاہتے ہیں۔بس سارے مقاصد آئین محبت کے اسی پیرائے میں سموتے ہوئے چلے جارہے ہیں ۔ جس سے یہ صاف طور پر واضح ہوتا ہے کہ پاکیزہ خیالی کے ساتھ محبت کے عناصر کی سچی ترتیب پر ، ویلنٹائن ڈے کبھی کھرا نہیں اتر سکا!محبت کی زنجیر سے الجھا رہا میں بھیتو بھی نہ بڑھا جسم کے آداب سے آگے ۔</p>
<p>جسم کے آداب، روح کی پاکیزگی ، عزت و ناموس کی حفاظت ویلنٹائن ڈے کے موقع پر کتنا قائم رہتی ہے وہ ہم سبھی کے نظروں کے سامنے ہے ۔اس لیے میری مودبانہ اپیل ملت کے نام یہ ہے کہ 19/ صدی کی بہتی ہوئی اس بے حیائی کے دن سے دور رہیں ۔اور والدین پر ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں کو سماج میں پھیلتے ہوئے اس بد ترین برائی سے دور رہنے کی تنبیہ کریں ۔محبت کا دعوی سبق ظلمتوں کایہ کیسی سیاست یہ کیسا سکھانایہی آرزو تھی محبت کریں ہمملی نہ محبت بنا اک فسانہیاد رکھیں آپ کی محبت کے سب سے زیادہ حقدار آپ کے والدیں ہیں جنہوں نے مذہبی رو روایت سے آپ کے جنم /جسم کی حفاظت کی ، آپ کو پالا پوشا، اور ہر لحظہ آپ کو کھڑا کرنے کی کوششیں کرتے ر ہیں۔ جنہوں نے آپ کو ترقی دینے کے خواب کو لے کر اور اپنی نیندوں کو قربان کرکے ، آپ کی زندگی کے ہر پہلو پر اب بھی مختلف نظریے سے نظر ڈال رہے ہیں۔کہ کاش! میرا پیارا مکمل طور سے ایک کامیاب انسان بن جائے ۔خدارا!آپنی محبت کا حقدار اپنے ان محسنوں کو بنائیں اور عیسائیوں کی اس مروجہ بے حیائی سے دور رہ کر عند اللہ محبوب و پیارا بنیں۔</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

badge Assistant Editor ★★★★★
ہ

ہماری آواز

📍 Faizabad

📰 4832 پوسٹ👁 19754 قارئین📊 4.1 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

نوجوان نسل میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی: اسباب و علاج

مسلمان، مسلمانوں سے دور کیوں؟ایک لمحۂ فکریہ!

اہلِ علم میں حسد کی زیادتی: ایک فکری، روحانی و اصلاحی تجزیہ

مقبول ترین پوسٹس

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے!

👁 136 ویوز

حمد باری تعالیٰ

👁 102 ویوز

ایک مسلمان کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟

👁 96 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش

👁 80 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع

👁 80 ویوز