Hamari Aawaz

یوم جمہوریہ یوم مسرت ہی نہیں یوم احتساب بھی ہے

مضامین و مقالات ← سیاست و حالات حاضرہ
📅 26-01-2021 👁 2 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
شائع کردہ: ہماری آواز badge

<p>از قلم: مرغوب الرحمان قاسمی</p>
<p>حصول آزادی کی تحریک در اصل ہندوستان کے مسلمانوں و علماء کرام سے ہی شروع ہوئی تھی۔ سب سے پہلے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی و آپ کے خانوادہ نے انگریزی حکومت کے ظلم و تشدد اور ہندوستانی عوام کے ساتھ کی جانے والیناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھائی تھیاتنا ہی نہیں باقاعدہ اس حکومت کے خلاف جہاد کا فتوی دیا گیا اس کے بعد ملک بھر کے مسلمان ہندوستان سے انگریزوں کو باہر نکالنے اور ملک کوآزادی دلوانے کی جدوجہد میں مصروف ہوگئے ۔۔۔بعد کے دنوں میں ملک بھر کے مسلمانوں کے علاوہ سید احمد شہیداور آپکے رفقاء علماء صادق پور اور علماء دیوبند جو ولی اللہ تحریک کے وارث و امین تھے۔ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی دارالعلوم دیوبند کے بانی مولانا محمد قاسم نانوتوی وغیرہ نے اپنے احباب و رفقاء کے ساتھ مل کر انگریزوں کے خلاف جدوجہد میں عملی طور پر حصہ لیاحضرت نانوتوی اور آپکے ساتھیوں کے بعد حضرت شیخ الہند محمود الحسن دیوبندی و آپکے شاگردوں نے اس محاذ کو سنبھالاانہوں نے انگریزوں کے خلاف پوری قوم کو منظم کرنے کی کوشش کیہندوستان سے انگریزی حکومت کے خاتمے کے لیے ایک عالمی سطح کی منصوبہ بندی کیجسے ہم ریشمی رومال کی تحریک کے نام سے جانتے ہیںیہ تحریک بعض وجوہ کی بنا پر کامیاب نہ ہوسکیاور حضرت شیخ الہند سمیت آپکے رفقاء کو لگ بھگ چار سال تک مالٹا کی جیل میں قید کرکے رکھا گیاجب حضرت شیخ الہند رہا ہوکر آئے تو آپ نے ہندوستان کے تمام مسلمانوں کو یہ پیغام دیا کہ آپس میں اتحاد و اتفاق قائم کیا جائے اور ملک سے غیر ملکی تسلط کو ختم کرنے کیلئے ہندو مسلم اتحاد کے ساتھ کوششیں کی کی جائیں آپ نے مسلمانوں میں تعلیمی شعور کو بڑھانے کے لیے ملک نامور دانشوران کو ایک قومی تعلیم گاہ قائم کرنے کی تلقین کیچنانچہ آپکی سربراہی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنیاد رکھی گئیجس نے ملک کی آزادی اور اعلی تعلیم کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہےانکے علاوہ امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد، شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیمجاہد ملت مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی وغیرہ جیسے بےشمار علماء کرام تھے۔</p>
<p>جنہوں نے تحریک آزادی کے جاں باز مجاہد کے طورپر اپنی گراں قدر خدمات و قربانیاں پیش کیو عام مسلمان بھی ہر قدم پر برادران وطن کے شانہ بشانہ جنگ آزادی میں شامل رہےان سب کی مشترکہ کوششوں کی بدولت ہی ہندوستان لگ بھگ ڈھائی سو سال کی غلامی کے بعد آزاد ہوا اور ہمیں ایک جمہوری دستور ملا جس کے مطابق تمام شہریوں کواس ملک میں آزادی کے ساتھ رہنے کھانے پینے و اپنے اپنے مذہب پر عمل کرنے کی مکمل آزادی دی گئی ۔۔۔۔اور بحیثیت اس ملک کے شہری کے چاہے وہ ہندو ہو یا مسلم سکھ ہو یا عیسائی یا کسی اور مذہب سے تعلق رکھنے والاسبھوں کو تمام تر حقوق دیے گئے ۔۔۔آج کے دن ہم تمام ہندوستان کے شہری 1 7 واں یوم جمہوریہ منارہے ہیںاور ہمیں اپنے ملک کے جمہوری دستور پر فخر ہے جو ملک کے تمام شہریوں کو نہ صرف یکساں عزت و احترام دیتا ہےبلکہ اس کے ساتھ ساتھ انہیں تمام سماجی اور شہری حقوق بھی دیتا ہےاور انکے تحفظ کی ضمانت بھی دیتا ہے ۔۔ہمارے دستور کا یہ خاص وصف ہے کہ اسمیں نہ صرف سیاسی جہموریت پر زور دیا گیا ہےبلکہ معاشی اور سماجی مساوات و انصاف پر بھی خاص طور سے توجہ دی گئی ہےتاکہ ملک میں بسنے والے مختلف مذاہب برادری و رنگ و نسل کے لوگ آپس میں کسی قسم کا بھید بھاؤ و تفریق نہ محسوس کریںاور سارے شہری یکساں طور پر اس ملک کے ذرائع سے فائدہ اٹھائیں اور اسے خوشحال و ترقی یافتہ بنانے میںاپنی جدوجہد اور ہر قسم کی صلاحیت کو بروے کار لائیں ۔۔۔۔دستور ہند تمام شہریوں کو اس بات کی بھی اجازت دیتا ہے کہ چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے ہوںانہیں اپنے مذہب پر نہ صرف عمل کرنے کی اجازت ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ پر امن طریقے سے اپنے مذہب کی اشاعت و تبلیغ کرنے مذہبی تعلیم گاہ قائم کرنے و مذہبی عبادات و امور انجام دینے کی مکمل آزادی ہےان میں سرکار کوئی مداخلت نہیں کریگی عملی طور پر سرکار کا کوئی مذہب نہیں ہوگابلکہ وہ دستور ہند پر کاربند ہوگیمگر یہ شاید اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ شروع سے ہی جہاں ایک طرف زیادہ تر لوگ تانا بانا و دستور ہند میں ۔یقین رکھنے والے اور اسکی سیکولر روح کے قدر دان رہے ہیں ۔وہی مٹھی بھر طبقہایسے لوگوں کا بھی رہا ہے جو یہ چاہتے ہیں کہ اس ملک کو مذہبی انتہا پسندی کی بنیاد پر توڑ دیا جائےاور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے ہندوستانیوں کے دلوں میں باہمی محبت کے بجائے نفرت اور عداوت کا بیج بودیا جائےمختلف طبقات کے درمیان ذات پات و برادری کا بھید بھاؤ بڑھا دیا جائے ۔۔۔لوگوں کی آزادی اور حقوق کو سلب کرنے کی سازش کی جائےایسے ہی لوگوں کی وجہ سے اس ملک کو تقسیم کا سانحہ بھی جھیلنا پڑاجسمیں لاکھوں بے قصور افراد مذہبی جنون کی بھینٹ چڑھ گئےافسوس کی بات ہے کہ ان دنوں جن طاقتوں کے ہاتھوں میں زمام اقتدار ہے یہ وہی لوگ ہیں جنکا کبھی بھی ملک کے دستور وجمہوریت میں یقین نہیں رہاانہوں نے ہمیشہ اس ملک کی سماجی یکجہتی و ہم آہنگی کو توڑ نے اور عوام کو آپس میں لڑانے کی کوشش کیاور مذہبی انتہا پسندی کو بڑھاوا دیتے رہےانکی حکومت کے دوران ان تمام لوگوں کاحوصلہ بڑھ گیا جو ملک کی جمہوریت کو برباد کرنا چاہتے ہیںگزشتہ چار برسوں کے دوران ملک میں اقلیتوں بلخصوص مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد کے بےشمار واقعات رونما ہوچکے ہیںمگر حکومت کے سروں پر جوں تک نہیں رینگتیایسے نازک ترین وقت میں ملک کے مسلمانوں ہی نہیں تمام انصاف پسند شہریوں کی ذمہ داری ہےوہ ملک کی جمہوریت کی بقاء و تحفظ کے حوالہ سے اپنی جواب دہی کو محسوس کرتے ہوئےفرقہ پرست طاقتوں کے خلاف پوری قوت و عزم ساتھ کھڑے ہوں اور انہیں نہایت ہوشمندی کے ساتھ منھ توڑ جواب دیا جائے۔</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

badge Assistant Editor ★★★★★
ہ

ہماری آواز

📍 Faizabad

📰 4832 پوسٹ👁 19360 قارئین📊 4 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

شہید ہوتی مسجدیں !!

ظہران ممدانی اور امریکی جمہوریت !!

بھارت دو راہ پر

مقبول ترین پوسٹس

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے!

👁 136 ویوز

حمد باری تعالیٰ

👁 102 ویوز

ایک مسلمان کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟

👁 96 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش

👁 80 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع

👁 80 ویوز